شامی پناہ گزین خلیجی ممالک کا رخ کیوں نہیں کر رہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عام خیال یہی ہے کہ کئی خلیجی ریاستوں نے شامیوں کو ویزوں کے اجرا کے سلسلے میں غیر اعلانیہ پابندیاں لگائی ہوئی ہیں

ایسے وقت میں جب یورپ میں داخلے کے لیے کوشاں شامی پناہ گزینوں کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے، یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ یہ لوگ ان امیر خلیجی ریاستوں کا رخ کیوں نہیں کر رہے جو ان کے ملک کے قریب واقع ہیں۔

اگرچہ پناہ کے متلاشی افراد شامیوں نے بڑی تعداد میں لبنان، اردن اور ترکی کا رخ بھی کیا ہے لیکن دیگر عرب ممالک خصوصاً خلیجی ممالک جانے والوں کی تعداد کہیں کم ہے۔

قانونی طور پر شامی کسی بھی خلیجی ریاست میں داخلے کے لیے ویزے کی درخواست دینے کے اہل ہیں اور وہ وہاں کام کرنے کے لیے ورک پرمٹ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

لیکن یہ عمل مہنگا بھی ہے اور عام خیال بھی یہی ہے کہ کئی خلیجی ریاستوں نے شامیوں کو ویزوں کے اجرا کے سلسلے میں غیر اعلانیہ پابندیاں لگائی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے ویزوں کا حصول بہت مشکل ہے۔

خلیجی ممالک جانے والی شامی وہی ہیں جن کے پاس پہلے سے ان کا ویزہ ہے اور وہ اس کی مدت میں توسیع کروا رہے ہیں یا پھر وہ لوگ جن کے اہلِ خانہ پہلے سے ان ممالک میں مقیم ہیں۔

محدود وسائل رکھنے والے لوگ کے لیے یہ کام آسان نہیں اور فی الحال شامیوں کو بغیر ویزے کے الجزائر، موریطانیہ، سوڈان اور یمن کے سوا کسی عرب ملک میں داخلے کی اجازت نہیں۔

شام کے قریب واقع ممالک کی امارت کی وجہ سے روایتی اور سماجی دونوں قسم کے میڈیا میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کیا پناہ کے طالب افراد کو جگہ دینے کے معاملے میں ان ممالک پر یورپ سے زیادہ بڑی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟

اس سلسلے میں ٹوئٹر پر عربی زبان کا ایک ہیش ٹیگ 33 ہزار سے زیادہ بار پیغامات میں استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ شامی پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنا خلیجی ممالک کا فرض ہے۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر لوگوں نے ان پناہ گزینوں کی حالتِ زار دنیا تک پہنچانے کے لیے سمندر میں ڈوبنے والے افراد، برے حالات میں رہائش پذیر خاندانوں اور خاردار تاروں کے اوپر سے دوسری جانب منتقل کیے جانے والے بچوں کی تصاویر بھی لگائی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپ میں داخلے کے لیے کوشاں شامی پناہ گزینوں کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے

فیس بک پر ’ڈنمارک میں شامی برادری‘ نامی صفحے پر جب پناہ گزینوں کی ہنگری سے آسٹریا میں داخلے کی ویڈیو شائع کی گئی تو اس پر ایک صارف کا تبصرہ تھا کہ خطے کے مسلم ممالک پر ان کی ذمہ داری اس ملک سے کہیں زیادہ ہے جسے یہ کافر ملک سمجھتے ہیں۔

ایک اور صارف نے لکھا ’خدا کی قسم یہ عرب ہیں جو کافر ہیں۔‘

شامی پناہ گزینوں کو عرب ممالک میں پناہ نہ دیے جانے کا معاملہ خلیجی اخبارات میں بھی اٹھایا گیا ہے۔

سعودی روزنامہ مکہ میں شائع ہونے والے ایک کارٹون میں ایک شخص کو روایتی عرب لباس پہنے ایک ایسے دروازے سے باہر جھانکتے دکھایا گیا ہے جس پر خاردار تار نصب ہے اور وہ ایک ایسے دروازے کی جانب اشارہ کر رہا ہے جس پر یورپی یونین کا پرچم بنا ہوا ہے۔

وہ شخص کہہ رہا ہے کہ ’تم انھیں کیوں نہیں آنے دے رہے؟ تم لوگوں میں شائستگی نہیں ہے۔‘

سابق کویتی رکنِ پارلیمان فیصل المسلم کی جانب سے ٹوئٹر پر پناہ گزینوں کی ایک تصویر اس تبصرہ کے ساتھ شائع کی گئی ہے کہ ’خلیج تعاون تنظیم کے رکن ممالک سنو، یہ معصوم افراد ہیں اور خدا کی قسم یہی اربوں کی امداد اور خیرات کے صحیح حقدار ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روایتی اور سوشل میڈیا پر اپیلوں کے باوجود ان شامی پناہ گزینوں کے بارے میں خلیجی ریاستوں کی پالیسی تبدیل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔

لیکن روایتی اور سوشل میڈیا پر اپیلوں کے باوجود ان شامی پناہ گزینوں کے بارے میں خلیجی ریاستوں کی پالیسی تبدیل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔

جہاں تک ملازمتوں کی بات ہے زیادہ تر خلیجی ریاستیں، جیسے کہ کویت، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات غیر پیشہ ور مزدوروں کے لیے برصغیر اور جنوب مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کو ترجیح دیتی ہیں۔

خلیجی ممالک سے تعلق نہ رکھنے والے عرب تعلیم اور صحت کے شعبے میں درمیانے درجے کی نوکریاں تو کرتے ہیں لیکن اب انھیں بھی ان ریاستوں میں ’قوم پرستی‘ کی اس مہم کا سامنا ہے جس کے تحت کویت اور سعودی عرب جیسے ممالک میں نوکریوں کے لیے مقامی افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

تارکینِ وطن کے لیے ان ممالک میں ایک مستحکم زندگی گزارنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ یہ ممالک شہریت دینے کے قائل نہیں۔

2012 میں کویت نے سرکاری طور پر اس پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت ریاست میں دس برس میں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں دس لاکھ کی کمی کی جائے گی۔

اسی بارے میں