’ہنگری تارکینِ وطن کو آسٹریا کی سرحد تک بسیں فراہم کرے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ بسیں انھیں آسٹریا کی سرحد پر واقع ہیگیشالوم کے مقام تک پہنچائیں گی

ہنگری سینکڑوں کی تعداد میں آسٹریا کی سرحد کی جانب پیدل سفر کرنے والے تارکینِ وطن کو آسٹریا کی سرحد تک بسیں فراہم کرے گا۔

خیال رہے کہ ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپسٹ میں ریلوے سٹیشن بند ہونے کے بعد سینکڑوں تارکینِ وطن نے جمعے کی صبح آسٹریا کی سرحد کی جانب پیدل سفر شروع کردیا تھا تاکہ وہ سرحد عبور کر سکیں۔

ہنگری کے حکام ہزاروں تارکینِ وطن کو مشرقی یورپ کے ممالک میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم ہنگری کی جانب سے تارکین وطن کو بسیں فراہم کرنے اعلان وزیراعظم وکٹر اوربان کے چیف آف سٹاف کی جانب سے جمعے کی شب سامنے آیا ہے۔

جانوس لازار کا کہنا ہے کہ ہنگری ویانا جانے والی موٹر پر پیدل سفر کرنے والوں اور بوڈاپسٹ کے کیٹلی ریلوے سٹیشن پر موجود تارکین وطن کو بسین فراہم کر سکتا ہے۔

یہ بسیں انھیں آسٹریا کی سرحد پر واقع ہیگیشالوم کے مقام تک پہنچائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکام ہزاروں تارکینِ وطن کو مشرقی یورپ کے ممالک میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے ہنگری کو آسٹریا کی حکومت کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا اس لیے وہ تاحال نہیں جانتے کہ تارکین وطن کو آسٹریا جانے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’ہم یہ اقدام اس لیے کر رہے ہیں تاکہ ہنگری میں آمدورفت کا نظام آئندہ 24 گھنٹوں میں مفلوج نہ ہو۔‘

دوسری جانب یورپی یونین کی ریاستیں تارکین وطن کے بحران سے نمبرد آزما ہونے کے لیے متفقہ حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ’بڑے پیمانے پر رہائش کی تبدیلی کے پروگرام‘ کے تحت دو لاکھ سے زائد تارکینِ وطن کو اپنے ممالک میں جگہ دیں۔

ہنگری کی ایک ٹرین میں محصور تارکینِ وطن اور پولیس کے درمیان کشیدگی دوسرے دن بھی برقرار ہے جبکہ اسی مسئلے پر بات کرنے کے لیے ہنگری کے وزیراعظم تین یورپی ممالک کے حکام سے آج پراگ میں ملاقات کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین انتونیو گوتیریش کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں تارکینِ وطن کی آمد پر انھیں مناسب سہولیات دی جانی چاہییں۔

Image caption یورپی یونین کی ریاستیں تارکین وطن کے بحران سے نمبرد آزما ہونے کے لیے متفقہ حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہیں

انھوں نے مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ کے ریلوے سٹیشن کو دو دن بند رکھنے کے بعد تارکینِ وطن کے لیے کھول دیا گیا تھا تاہم وہاں سے تارکین وطن کو لے کر روانہ ہونے والی ایک ٹرین کو بوڈاپیسٹ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور مغرب میں بسکے کے مقام روک دیا گیا جہاں پر تارکین وطن کا سینٹر قائم کیا گیا ہے۔

’تارکین وطن کا بحران دراصل جرمنی کا مسئلہ ہے‘

ٹرین میں موجود تارکینِ ٹرین چھوڑنے سے انکاری ہیں اور انھیں امید ہے کہ حکام انھیں آسٹریا کی سرحد تک پہنچا دیں گے۔

ادھر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے شامی تارکینِ وطن کو پناہ دیے جانے کا اعلان آج متوقع ہے جبکہ آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا ہےکہ تارکینِ وطن کی اموات روکنے کا واحد طریقہ کشتیوں کو روکنا ہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ نے یورپی یونین کو کہا ہے کہ دو لاکھ سے زائد تارکینِ وطن کو اپنے ممالک میں جگہ دیں

برطانوی وزیراعظم جمعے کو سپین اور پرتگال میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں جس میں تارکینِ وطن کا معاملہ بھی زیرِ غور آئے گا۔

اطلاعات کے مطابق یورپی کمیشن کے حکام بھی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی یونان آمد کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے یونان کا دورہ کریں گے۔

گذشتہ روز ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے خبردار کیا تھا کہ یورپ آنے والے بڑی تعداد میں مسلمان پناہ گزینوں سے یورپی بر اعظم کی عیسائی بنیادوں کو خطرہ ہے: ’ہم اپنے ملک میں بڑی تعداد میں مسلمان نہیں چاہتے۔‘

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل اور فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ تارکین وطن کی یورپی ممالک میں منصفانہ تقسیم کی تجاویز تیار کریں گے۔

خیال رہے کہ جرمنی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو قبول کرنے پر تیار ہے مگر دوسرے ممالک اس پر آمادہ نہیں۔

اس سے پہلے ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ ہنگری بغیر اندراج کے کسی تارکِ وطن کو اپنے ملک سے نہیں نکلنے دے گا۔

Image caption صرف جولائی میں یورپ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ سات ہزار تک پہنچ گئی ہے

خیال رہے کہ صرف جولائی میں یورپ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ سات ہزار تک پہنچ گئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ جرمنی کا اندازہ ہے کہ رواں سال اس کے یہاں آٹھ لاکھ پناہ گزین پہنچیں گے جوگذشتہ سال سے چار گنا زیادہ ہیں۔

افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن یورپ کا رخ کر رہے ہیں جس کے باعث یورپی یونین کے رکن ممالک کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے میں دشواری کا سامنا ہے۔

اٹلی اور یونان کا کہنا ہے کہ ان کے ساحلوں پر بڑی تعداد میں تارکین وطن پہنچے ہیں جبکہ دیگر ممالک بشمول جرمنی بھی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم کئی ممالک بشمول برطانیہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تارکین وطن کے بحران کے حل کے لیے یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا اجلاس 14 ستمبر کو برسلز میں ہوگا۔

اسی بارے میں