روس میں شادیوں کے لیے خصوصی پولیس

 پولیس یونٹ اس امر کو یقینی بنائے گا کہ شادی کے مہمانوں سے بھری گاڑیاں ہائی وے کے ضابطوں کی پابندی کریں

،تصویر کا ذریعہNTV

،تصویر کا کیپشن

پولیس یونٹ اس امر کو یقینی بنائے گا کہ شادی کے مہمانوں سے بھری گاڑیاں ہائی وے کے ضابطوں کی پابندی کریں

روس کی تاس نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی روس میں شادیوں میں لوگوں کی حفاظت کے لیے پولیس کا ایک خصوصی یونٹ قائم کیا گیا ہے۔

40 اہلکاروں پر مشتمل پولیس کا یہ یونٹ شمالی کاکیشیا کے خطے ادیجیا میں گشت کرے گا اور اس امر کو یقینی بنائے گا کہ شادی کے مہمانوں سے بھری گاڑیاں ہائی وے کے ضابطوں کی پابندی کریں اور گاڑی کی کھڑکیوں سے کوئی فائرنگ نہ کرے۔

ادیجیا کے لوگ بھرپور جشن منانے کے لیے مشہور ہیں اور وہاں شادیوں میں اکثر اوقات فائرنگ کی جاتی ہے اور ٹریفک قوانین کی پرواہ کیے بغیر شور شرابے کے ساتھ گاڑیاں چلائی جاتی ہیں۔

ادیجیا کے وزیرِ داخلہ الیکسینڈر رچٹسکی نے خبر ایجنسی ’تاس‘ کو بتایا کہ ’شادی میں شریک مہمانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے پولیس یونٹبنانے سے شادی کے موقع پر گاڑیوں سے لوگوں کے خوشی کے ناقابلِ کنٹرول اظہار کا خاتمہ ہو جائے گا‘۔

روس میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا ایسا یونٹ ہے۔ وزیرِ داخلہ کا کہناتھا کہ اس یونٹ میں شامل پولیس کے اہلکاروں کو سوچ سمجھ کر اس راستوں پر لگایا جائے گا جہاں سے شادی کا جلوس گزرتا ہے۔ یہ پولیس ،اندارج دفاتر اور ’ان مقامات پر جہاں شادی میں شریک مہمان جاتے ہیں‘ جن میں پارک یا چوراہے شامل ہیں، بھی گشت کرے گی۔

کئی نو بیاہتا جوڑوں نے ان حکومتی اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایک دلہن نے علاقائی ٹیلی وژن چینل 24 سے بات کرتے ہوئے کہا ’اس طرح کا پولیس کا یونٹ قائم کرنا درست اقدام ہے کیونکہ شادیوں میں فائرنگ سے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔‘

ادیجیا میں فائرنگ کا تازہ ترین واقعہ 15 اگست کو پیش آیا تھا جب ایک شخص نے میکوپ میں اندراج کے دفتر کے باہر اپنے پستول سے ہوائی فائرنگ کی۔ ’تاس‘ خبر ایجنسی کے مطابق اس شخص کو 50 ہزار روبلز (ساڑھے سات سو ڈالر) جرمانہ ہوا تھا اور اس کا پستول بھی ضبط کر لیا گیا تھا۔