’پناہ گزینوں کی مدد کے اقدامات کے مرحلہ وار خاتمے کا وقت آ گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کو 11 ہزار پناہ گزین جرمنی پہنچے تھے اور اتوار کو مزید دس ہزار کی آمد کی توقع ہے۔

یورپی ملک آسٹریا کے چانسلر ورنر فیمین نے کہا ہے کہ ان خصوصی اقدامات کو مرحلہ وار ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے جن کی بدولت مشرقِ وسطیٰ سے یورپ آنے والے ہزاروں پناہ گزین ہنگری سے بغیر کسی رکاوٹ کے مغربی یورپ پہنچ رہے ہیں۔

ادھر شام سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کو مغربی یورپ تک پہنچنے میں مدد دینے کے لیے انسانی حقوق کے جرمن اور آسٹریائی کارکنوں کی گاڑیوں کا ایک کارواں آسٹریا کی سرحد عبور کر ہنگری پہنچا ہے۔

ہزاروں پناہ گزین اپنی ’منزل‘ پر پہنچ گئے: تصاویر

جمعے کو رات گئے ہنگری سے تارکینِ وطن کی آسٹریا آمد اور پھر ان میں سے بیشتر کی وہاں سے جرمنی روانگی کا شروع ہونے والا سلسلہ سنیچر کی شب تک جاری رہا تھا اور اس دوران 10 ہزار پناہ گزین سرحد عبور کر کے آسٹریا میں داخل ہوئے تھے۔

اتوار کو دوسرے دن بھی پناہ گزین اور تارکین وطن بسوں اور خصوصی ٹرینوں کے ذریعے اور پاپیادہ آسٹریا کی سرحد پر پہنچتے رہے جنھیں وہاں سے ویانا منتقل کیا گیا۔

ویانا سے یہ افراد میونخ اور جرمنی کے دوسرے شہروں کے لیے روانہ ہوئے اور اتوار کو جہاں میونخ کے سٹیشن پر پناہ گزینوں کی کئی ٹرینیں پہنچیں وہیں بہت سے پناہ گزینوں نے جرمنی کے دوسرے شہروں کا بھی رخ کیا ہے۔

جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کو 11 ہزار پناہ گزین جرمنی پہنچے تھے اور اتوار کو مزید دس ہزار کی آمد کی توقع ہے۔

خیال رہے کہ جرمنی کی حکومت کہنا ہے کہ اس کے یہاں رواں برس آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کی آمد متوقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انسانی حقوق کے کارکنوں پر مشتمل کاروں کا ایک کارواں بھی نجی طور پر پناہ گزینوں کو لے کر جا رہا ہے

آسٹریا کے چانسلر ورنر فیمین نے پناہ گزینوں کی صورتحال پر اتوار کو جرمن چانسلر آنگیلا میرکل اور ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان سے ٹیلیفون پر بات کی۔

اس بات چیت کے بعد انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہزاروں پناہ گزینوں کی آسٹریا اور جرمنی آمد کے لیے لیے گئے غیر معمولی اقدامات کو مرحلہ وار ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ یہ ایک ہنگامی صورتحال ہے جس میں ہمیں فوری طور پر اور نرمی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ورنر فیمین کے مطابق ’ہم نے 12 ہزار سے زیادہ افراد کی اس مشکل صورتحال میں مدد کی ہے۔ اب ہمیں قدم بہ قدم ہنگامی صورتحال سے معمول کی صورتحال کی جانب جانا ہے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک آسٹریئن اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ آسٹریا اب ملک میں داخل ہونے والے افراد کی تلاشی اور جانچ پڑتال کا وہی عمل دوبارہ شروع کر دے گا جو جمعے تک جاری تھا۔

خیال رہے کہ جرمنی اور ہنگری پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لیے کیے جانے والے انتظامات کا مقصد بحرانی صورتحال سے بچنا تھا اور اس رعایت کو مستقبل کے لیے مثال نہ سمجھا جائے۔

جرمن حکومت کی جانب سے یہ بات سنیچر کو ہزاروں پناہ گزینوں کی جرمنی آمد کے بعد کہی گئی اور حکام کا کہنا ہے مستقبل میں پناہ گزینوں کو اسی یورپی ملک میں پناہ طلب کرنی ہوگی جہاں وہ سب سے پہلے پہنچیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جرمنی میں پناہ گزینوں کا فراخ دلی سے استقبال کیا گیا ہے

دوسری طرف پاپائے روم پوپ فرانسس نے یورپ میں رومن کیتھولک فرقے کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے بحران کے حل کے لیے اپنا حصہ ڈالیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہر گرجا، ہر مذہبی برادری اور یورپ میں ہر کسی پناہ گاہ کو چاہیے کہ وہ ایک خاندان کو رکھے۔‘

انھوں نے کہا کہ انسانیت کو چاہیے کہ وہ ان کی مدد کرے جو ’موت سے بھاگ‘ کر آئے ہیں، جو جنگ اور بھوک کا شکار ہیں اور بہتر زندگی کے لیے نکلے ہیں۔‘

اتوار کو 140 کاروں کا ایک نجی کارواں ویانا سے ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپسٹ کے لیے روانہ ہوا جسے ’ریفیوجی کانوائے‘ کہا جا رہا ہے۔ اس کارواں میں شامل ایک آسٹریائی خاتون انجلیکا نیوورتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارا ہدف ہے کہ ہم انھیں آسٹریا کے دارالحکومت میں بنی پناہ گاہوں میں لے کر واپس آ جائیں۔

انھوں نے کہا: ’میں سمجھتی ہوں کہ یہ میرا فرض ہے۔ میں ایک ماں ہوں، میں آسٹریا کی ایک عورت ہوں، اور میں مزید اپنی آنکھیں بند کر کے نہیں رہ سکتی۔ ہم سب انسان ہیں۔ کوئی بھی غیر قانونی نہیں۔‘

تاہم ہنگری کی پولیس کی ترجمان وکٹوریا سیزر۔کواکس کا کہنا ہے کہ جو کوئی بھی پناہ گزینوں کو سرحد پار لے کر جائے گا وہ قانون شکنی کر رہا ہو گا۔

ہنگری میں حکام نے سربیا کے ساتھ اپنی جنوبی سرحد کے قریب بھی پناہ گزینوں کے لیے ایک نیا کیمپ کھولا ہے۔

اسی بارے میں