مختلف سوچ کے اتحادیوں کو مشترکہ حل کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روراں سال مئی میں سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات اس قدر خراب تھے کہ سعودی بادشاہ نے صدر اوباما کی دورے کی دعوت کو ٹھکرا دیا تھا

سعودی فرمانروا کا پہلا امریکی دورہ واشنگٹن میں شاہی اسراف کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔

اس دورے پر بادشاہ کے ساتھ سینکڑوں حکام اور کئی درجن قیمتی گاڑیاں بھی امریکہ آئیں تھیں۔ایک پر آسائش ہوٹل کے تمام 222 کمرے سعودی وفد کے لیے بک کروائے گئے تھے۔

لیکن اس دورے سے سعودی عرب اور امریکی لیڈر دونوں ممالک کی مضبوط دوستی کا پیغام دینا چاہتے تھے۔

اس دورے کے بعد جاری کیے جانے والے اعلامیے میں مضبوط، گہری، دائمی دوستی جیسے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔

بیان بازی سے قطح نظر ایک چیز تو واضع ہے کہ سعودی عرب نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں جو سرد مہری پیدا ہو گئی تھی اسے اب ختم کیا جانا چاہیے۔

واضع رہے کہ روراں سال مئی میں سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات اس قدر خراب تھے کہ سعودی بادشاہ نے صدر اوباما کی دورے کی دعوت کو ٹھکرا دیا تھا۔

لیکن معاہدے کے حتمی ہونے کے بعد یہ جانتے ہوئے کہ اب اس بارے میں کچھ نہیں کیا جاسکتا سعودی عرب نے محتاط انداز میں اس کی حمایت کا اظہار بھی کیا تھا۔

اب صورتحال کافی مختلف ہے ملک کے وزیرے خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس معاہدے سے مطمئن ہے اور یہ معاہدے ایران کے جوہرے پروگرام کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روک سکے گا۔

تو صدر اوباما جو چاہتے تھے وہ ان کو مل گیا، ایک دیرینہ اتحادی کے جانب سے ایسے موقعے پر کھُل کر حمایت جب کانگریس اس معاہدے پر ووٹ کرنے والی ہے۔

اس سے صدر اوباما کے ان ناقدین کو چُپ کروانے میں مدد ملے گی جو یہ کہتے آئے ہیں کہ اوباما کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے مشرقِ وسطی میں موجود امریکی اتحادیوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام کے حوالے سے دونوں ممالک میں اختلاف پایا جاتا ہے سعودی خواہش ہے کہ شامی حکومت کے خلاف براہراست فوجی کارروائی کی جائے

اب سعودی عرب کی نظر میں جو اصل مسئلہ ہے اس طرف کی توجہ دی جا سکے گی یعنی خطے میں ایران کی مداخلت کو روکنا۔

سعودی عرب اور دیگر سنی عرب ممالک ایران کی جانب سے عراق میں شعیہ ملیشیا، شام کے صدر بشار السد کی حکومت ، حوثی جنگجوؤں اور لبنان میں حزب اللہ کی مدد اور حمایت کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

ان کے خیال میں ایران پر سے پابندیوں کے خاتمے کے بعد وہ خطے میں مزید مداخلت کرے گا۔

اوباما انتظامیہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ امریکہ عرب ممالک کو ایران کی جانب سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔

امریکہ نے عرب ممالک کو ایران کی جانب سے درپیش غیرروائتی خطرات جیسے سائبر حملے، سمندری سکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے کی پیشکش کی ہے۔

سعودی عرب میں امریکہ کے سابق سفیر جیمز سمیتھ کے مطابق ’ عرب ممالک امریکہ سے یہ گارنٹی چاہتے ہیں کہ معیار میں ان کی افواج ایران سے برتر رہیں۔‘

اس دورے کے دوران امریکی صدر اور سعودی شاہ نے یمن اور شام پر بھی بات چیت کی۔ واضح رہے کہ ان دونوں ممالک کی صورتحال کے حوالے سے جہاں کافی حد تک امریکہ اور سعودی عرب متفق ہیں وہاں کچھ چیزوں میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔

یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف سعودی اتحاد کی کارروائی کو مکمل امریکی حمایت حاصل ہے۔ لیکن اس کے ساتھ عام شہریوں کی ہلاکتوں اور امداد کی کمی کے حوالے سے امریکہ تحفظات کا اظہار بھی کر چکا ہے۔

حالیہ دورے میں یہ بات طے پائی ہے کہ یمن میں عام شہریوں کے لیے امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب مزید اقدامات کرے گا تاکہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں امداد ملک میں پہنچائی جاسکے۔

شام میں دونوں ممالک اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں لیکن صدر اسد کی حکومت سے کیسے نمٹا جائے اس حوالے سے دونوں ممالک میں اختلاف ہے۔

سعودی عرب کی خواہش ہے کہ شامی حکومت کے خلاف براہراست فوجی کارروائی کی جائے۔ دوسری جانب امریکہ کو سعودی عرب کے شامی شدت پسند سے قریبی تعلقات پر تحفظات ہیں۔

مسائل کا سیاسی حل ڈھونڈنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن تمام معاملات پر فوری اتفاق ممکن نہیں ہے۔

اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز تھنک ٹینک سے وابستہ تجزیہ کار انتھونی کورڈز مین کا کہنا ہے کہ ’مشرقِ وسطی میں جاری افراتفری کی وجہ سے پیدا ہونے والے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک مذاکرات ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’عرب ممالک سے اتحاد کا انحصار ان حالات و واقعات پر ہے جو ہم میں سے کسی کے بھی قابو میں نہیں۔‘

’اگر اس جوہری معاہدے کے بعد ایران میں اعتدال پسندی کو فروغ ملے گا تو دونوں ممالک کے تعلقات پر دباؤ کم ہوگا کیونکہ ایران کے خلاف کارروائی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ لیکن ایران سے جنگ کیے بغیر کیسے نمٹا جائے اس حوالے دونوں ممالک میں کبھی بھی مکمل اتفاق نہیں ہوسکتا۔‘

دو انتہائی مختلف سوچ رکھنے والے ممالک کو ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے کے طریقوں کو ڈھونڈنا ہوگا اور یقیناً ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔

اسی بارے میں