شیر کے ’قاتل‘ ڈاکٹر کی کام پر واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منی سوٹا سے تعلق رکھنے والے دانتوں کے ڈاکٹر نے کہا کہ انھوں کو گولی نہیں ماری بلکہ تیر کے ذریعے زخمی کیا تھا

زمبابوے میں شیر کے شکار سے بین الاقوامی سطح پر ہنگامہ برپا کر دینے والے دانتوں کے امریکی ڈاکٹرکا کہنا ہے کہ رواں ہفتے ان کا ارادہ کام پر واپس آجانے کا ہے، انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

جولائی میں ’سیسل‘ نامی شیر کی ہلاکت کے بعد سے پہلا انٹرویو دیتے ہوئے والٹر پامر نے کہا کہ انھیں اس جانور کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کے خاندان کو ’حفاظت کے حوالے سے مسائل‘ درپیش ہیں۔

زمبابوے کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ پامر کی حوالگی چاہتے ہیں تاکہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔

اس واقعے کے بارے میں پہلی بار بات کرتے ہوئے پامر نے امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس اور مقامی اخبار منی ایپلس سٹار ٹریبیون کو بتایا کہ انھوں نے یہ کام قانون کے دائرے میں رہ کر کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انھیں علم ہوتا کہ جانور کون تھا تو وہ اسے ہلاک نہ کرتے۔

پامر نے کہا کہ ’اگر مجھے علم ہوتا کہ اس شیر کا کوئی نام ہے اور وہ اپنے ملک کے لیے اور کسی تحقیق کے لیے اہمیت رکھتا ہے تو یقیناً میں اسے شکار نہ کرتا۔ ہمارے شکاری گروہ میں کسی کو بھی اس شیر کے نام کا علم نہ شکار کرنے سے پہلے تھا نہ بعد میں۔‘

منی سوٹا سے تعلق رکھنے والے دانتوں کے ڈاکٹر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انھوں نے شیر کو تیر سے زخمی کیا تھا۔ تاہم انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ اس کے بعد شیر کو ڈھونڈنے اور جان سے مارنے میں 40 گھنٹے لگے تھے۔

انھوں نے زمبابوے کی حکومت کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ شیر کو گولی ماری گئی تھی، بلکہ ان کا کہنا تھا کہ تیر کا استعمال کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیسل کے شکار کی وجہ سے امریکی ڈاکٹر کی دنیا بھر سے مذمت کی گئی تھی

خیال کیا جاتا ہے کہ 55 سالہ پامر نے زمبابوے کی سب سے بڑی سیاحتی شکارگاہ میں اس شیر کے شکار کے لیے 50 ہزار امریکی ڈالر کی ادائیگی کی تھی۔

دانتوں کے کلینک کے باہر ہونے والے مظاہروں کے باعث پامر کو کلینک بند کرنا پڑا تھا۔

کام پر واپس آنے کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ’میں واپس آنا چاہتا ہوں کیونکہ میرا عملہ اور میرے مریض میرے ساتھ ہیں اور وہ مجھے کام پر واپس دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے اس بات کو رد کر دیا کہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے انھیں روپوش ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں لوگوں کی نظروں سے دور ہوں اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں روپوش ہوں۔ میں لوگوں کے درمیان ہوں، جیسے میرے دوست اور میرے گھر والے۔‘

پامر نے بتایا کہ ان کی صاحبزادی اور اہلیہ کو دھمکی آمیز صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’انھیں سوشل میڈیا پر دھمکیاں دی گئیں … میں پھر کہوں گا کہ جن کا اس واقعے سے تعلق نہیں ان کے پیچھے لگنے والے لوگوں کی انسانیت میری سمجھ سے باہر ہے۔‘

وہ شوقیہ شکاری کی حیثیت سے زمبابوے کا چار بار پہلے بھی دورہ کر چکے ہیں اور وہاں دوبارہ جانے کو انھوں نے خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

انھوں نے کہا: ’میں مستقبل کے بارے میں نہیں جانتا، شکار کے لیے زمبابوے میرے لیے شاندار ملک کی حیثیت رکھتا ہے اور میں نے ہمیشہ قوانین کی پابندی کی ہے۔‘

اسی بارے میں