سینکڑوں تارکین وطن رکاوٹیں توڑتے ہوئے ہنگری میں داخل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سربیا سے مزید سینکڑوں تارکین وطن پولیس کی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے ہنگری میں داخل ہو گئے ہیں اور اب دارالحکومت پوڈاپسٹ کی طرف جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت پولیس کی نگرانی میں 300 تارکین وطن موٹر وے پر پوڈاپسٹ کی جانب رواں دواں ہیں۔

ہنگری میں مشرقِ وسطی اور افریقہ سے ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن پہنچ رہے ہیں تاکہ یہاں سے جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں پناہ حاصل کر سکیں۔

پیر کو ہنگری کے وزیر دفاع نے تارکین وطن کو روکنے کے لیے سرحدوں پر تعمیرات میں مسائل کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ہنگری نے اس سے پہلے تارکین وطن کو شمال کی جانب سے روکے رکھا تھا تاکہ یورپی قوانین کے تحت ان کا اندراج کیا جا سکے تاہم انھیں روکنے میں مشکلات کی وجہ سے اس نے جمعے کو پابندیوں میں نرمی کر دی تھی اور رواں اختتام ہفتہ پر 20 ہزار تارکین آسٹریا کے راستے جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

پیر کو ہنگری کے علاقے روژکے کے ایک کیمپ سے تارکین وطن کی نکلنے کی کوشش میں پولیس سے تصادم ہوا۔ اس دوران تارکین وطن نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤں کیا جبکہ پولیس نے مرچوں کا سپرے استعمال کیا۔

دوسری جانب برطانیہ نے اگلے پانچ برس تک 20 ہزار تارکین وطن کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’جرمنی اکیلا اس بحران سے نہیں نمٹ سکتا‘

اس سے پہلے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی میں آنے والے پناہ گزینوں کی ’حیران کن‘ تعداد آنے والے برسوں میں ملک میں پھیل کر ملک کو بدل کر رکھ دے گی۔

انھوں نے کہا کہ جرمنی پناہ لینے کے طریقہ کار میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ ملک میں زیادہ گھر بھی تعمیر بھی کرے گا۔

جرمنی کی اتحادی حکومت نے تارکینِ وطن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے چھ ارب یورو پر مشتمل فنڈز جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

انگیلا میرکل نے یہ بھی کہا کہ جرمنی اکیلا اس بحران سے نہیں نمٹ سکتا۔ انھوں نے تمام یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ پناہ گزینوں کی مدد کریں۔

خیال ہے کہ گذشتہ سنیچر اور اتوار کو کم از کم 20 ہزار تارکین وطن جرمنی آئے تھے اور توقع ہے کہ پیر کو مزید 11 ہزار لوگ ملک میں داخل ہوں گے۔

اس سے قبل فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے اعلان کیا تھا کہ بحران سے نمٹنے کے لیے فرانس 24,000 پناہ گزینوں کو لینے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اور انگیلا میرکل چاہتے ہیں کہ یورپی یونین ایک ایسے منصوبے کی حمایت کرے جس کے تحت ہر ممبر ملک کے لازم ہو کہ وہ پناہ گزینوں کا منصفانہ حصہ لے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل تارکینِ وطن کے لیے ملکی سرحدوں کو کھولنے کے فیصلے پر تنقید کی زد میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یورپی یونین کے ممالک نے پناہ گزینوں کو تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے

یورپی کمیشن کی طرف سے نئے کوٹے کا اعلان بدھ کو متوقع ہے۔

سپین کے اخبار ال پیئس نے سوموار کو رپورٹ کیا تھا کہ سپین میں 120,000 پناہ گزین بسائے جائیں گے۔ یہ ان 40,000 پناہ گزینوں کے علاوہ ہے جن پر اس نے اس سے قبل رضامندی ظاہر کی تھی۔

ان 160,000 لوگوں میں یونان سے آنے والے 66,000، ہنگری سے آنے والے 54,000 اور اٹلی سے آنے والے 40,000 لوگ شامل ہیں۔

یونان نے ترکی سے آنے والے پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین سے ہنگامی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ جرمنی، آسٹریا اور ہنگری کی جانب سے پناہ گزینوں کے لیے موجود قوانین کو نرم کرنے کے معاہدے کے بعد گذشتہ ہفتے کے اختتام پر 18 ہزار افراد نے جرمنی کی سرحد عبور کی۔

تاہم آسٹریا کے چانسلر ورنر فیمن نے کہا ہے کہ ایمرجنسی میں کیے جانے والے ان اقدامات کو ختم کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کا ملک مرحلہ وار بنیادوں پر معمول کی صورت حال پر لوٹے گا۔

خیال رہے کہ ہنگری نے پناہ گزینوں کے مغربی یورپ میں داخلے کو بند کر رکھا تھا تاہم گذشتہ جمعے کو یہ پابندی ہٹا دی گئی تھی۔

جرمن چانسلر نے اتحادی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے بعد اضافی فنڈز کا اعلان کیا تھا۔

جرمنی حکومت تین ارب یورو وفاقی ریاستوں اور مقامی کونسلوں کو دے گی۔ جبکہ باقی مزید تین ارب یورو وفاقی سطح پر ہونے والے پروگراموں کی مد میں خرچ کیے جائیں گے۔

ان منصوبوں میں تارکینِ وطن کو جگہ دینے کے لیے قائم مراکز میں اضافہ، موسمِ سرما کے لیے انتظامات، تارکینِ وطن کے لیے نقد رقم وغیرہ شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یورپ کے عوام دل کھول کر پناہ گزینوں کی مدد کر رہے ہیں

خیال رہے کہ جرمنی کو توقع ہے کہ رواں برس وہاں آنے والے کل مہاجرین کی تعداد آٹھ لاکھ ہو گی جس کے باعث وہ یورپ کے دیگر ممالک سے مدد چاہتا ہے۔

انگیلا میرکل کو تارکینِ وطن کا ہیرو قرار دیا جا رہا ہے مگر ان پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ہنگری سے تارکینِ وطن کو جرمنی میں داخلے کی اجازت دینا مکمل طور پر غلط علامت ہے۔

ادھر جرمن وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ یہ غیر معمولی فیصلہ انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے کیا گیا۔

اتوار کو جرمنی اور آسٹریا سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنوں کا ایک گروہ ہنگری کی سرحد پر موجود تارکینِ وطن کو لانے کے لیے پہنچا۔

خیال رہے کہ پناہ کی تلاش میں آنے والے افراد میں سب سے زیادہ تعداد شامی باشندوں کی ہے۔

دوسری جانب آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ پر مزید تارکینِ وطن کو داخلے کی اجازت دینے کے لیے دباؤ ہے۔

ٹونی ایبٹ نے کہا کہ مزید شامی پناہ گزینوں کو ملک میں آنے دیا جائے گا لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنے لوگ ہوں گے۔

تاہم ان کی اپنی جماعت کے اراکین نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کے متعلق مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

نائب وزیرِ خزانہ جوش فریڈنبرگ نے سوموار کو شام اور عراق سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کے لیے عارضی رہائش گاہوں کے لیے کہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوسوو کی طرح کے حل کی ضرورت ہے جس میں آسٹریلیا پہلے شام اور عراق کے پناہ گزینوں کو اپنے پاس رکھے اور بعد میں جب ان کے ملک محفوظ ہو جائیں تو انھیں واپس بھیج دے۔

ادھر برطانوی وزیراعظم کی جانب سے تارکینِ وطن کے لیے ایک منصوبے کا اعلان متوقع ہے۔

اسی بارے میں