شام میں برطانوی ڈرون حملے میں دو برطانوی جنگجو ہلاک

Image caption بائیں جانب ریاض خان اور دائیں جانب روح الامین نے دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے برطانیہ سے شام کا سفر کیا تھا

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ شام میں برطانوی فضائیہ کے ڈرون حملے میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے دو برطانوی جنگجو مارے گئے ہیں۔

وزیراعظم کیمرون نے پیر کو ارکان پارلیمان کو بتایا ہے کہ کارڈف کے رہائشی ریاض خان اور ابرڈین کے رہائشی روح الامین گذشتہ ماہ شامی شہر رقہ میں برطانوی فضائیہ کے ڈرون حملے میں مارے گئے اور یہ برطانیہ کا شام میں دولت اسلامیہ کے لیے لڑنے والے برطانوی شہریوں پر پہلا حملہ تھا۔

وزیراعظم کے بقول ریاض خان نے برطانوی سرزمین پر ’سفاکانہ‘ حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی اور اپنے دفاع کے لیے اٹھایا جانے والا یہ قدم قانونی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ریاض خان کو بے حد محتاط منصوبہ بندی کے بعد ڈرون کی مدد سے اس وقت ہدف بنایا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی تصدیق کی کہ 24 اگست کو رقہ میں ہی امریکی فورسز کی کارروائی میں برمنگھم سے تعلق رکھنے والی جنید حسین مارے گئے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ریاض خان اور جنید حسین نے رواں موسم گرما میں برطانیہ میں منعقد ہونے والی یادگاری تقریبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ریاض خان کے خلاف کارروائی سے پہلے اٹارنی جنرل سے مشاورت کی گئی تھی اور وہ اس بات پر واضح طور پر متفق تھے کہ انھیں ہدف بنانے کا قانونی جواز موجود ہے۔

دوسری جانب کارڈف میں ریاض خان کے اہل خانہ کے قریب ایک شخص محمد اسلام نے اس واقعے سے متعلق سچ جاننے کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

’یہ بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہے اور ریاض خان کے اہل خانہ کو بہت دکھ اور صدمہ پہنچا ہے۔‘

Image caption جنید حسین البرطانی کو’سائبر جہادی‘ کے طور پر بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا

دوسری جانب حقوق انسانی کی تنظیم ’ریپریو‘ کی کٹ گریگ نے کہا ہے کہ انھیں فضائی کارروائیوں پر گہری تشویش ہے اور اس ضمن میں قانونی رائے شائع کی جانی چاہیے۔

’ہمیں کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ برطانیہ کی جانب امریکہ کی ناکام خفیہ کارروائیوں کی ہوبہو نقل کی جا رہی ہے۔‘

برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے کہا ہے کہ برطانیہ کے لیے خطرے کا باعث بننے والے دولتِ اسلامیہ کے اہداف کو نشانہ بنانے کے معاملے کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا اور وہ اس کی تردید کرتے ہیں کہ آیا ایسی دیگر کارروائیوں کی اجازت دی گئی ہے۔

برطانوی سکیورٹی حکام کے مطابق 700 کے قریب برطانوی شہری شام گئے اور ان میں سے نصف کے قریب واپس لوٹ آئے ہیں۔

خیال رہے کہ دو دن پہلے ہی بی بی سی کو معلوم ہوا تھا کہ برطانوی حکومت شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف مزید اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔

جولائی میں وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ مل کر شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کی خود ساختہ خلافت کو ختم کرنے کے بارے میں پر عزم ہے۔

اسی بارے میں