’یورپ میں پناہ دینے کا نظام غیر فعال اور بدنظمی کا شکار‘

پناہ گزین
Image caption جرمن حکام کے مطابق جرمنی میں 2015 میں 800,000 پناہ گزین متوقع ہیں

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کے ہائی کمشنر نے یورپی اتحاد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پناہ دینے کے غیرفعال اور بدنظمی کے شکار نظام کی سربراہی کر رہا ہے۔

ہائی کمشنر انتونیو گوتیریش نے کہا ہے کہ یورپی اتحاد اتنا وسیع ہے کہ اگر خود کو منظم کرے تو اپنی سرحدوں میں آنے والے پناہ گزینوں کو ضم کر سکتا ہے۔

امریکی خبررساں ایجنسی اے پی کے مطابق انتونیو گوتیریش نے پیرس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ یورپی اتحاد مسئلے کو وقت سے پہلے دیکھنے میں ناکام رہا یا مربوط انداز میں اس سے نمٹ نہیں سکا۔

’28 ممالک کے اتحاد کی 50 کروڑ 80 لاکھ آبادی ہے اور اس کے پاس اتنے وسائل اور جگہ ہونی چاہیے کہ یہ آرام سے نئے آنے والے لاکھوں افراد کو ضم کر سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کے مسئلے میں غیرضروری طور پر مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ یورپ اتنا منظم نہیں ہے کہ اس سے نمٹ سکے کیونکہ اس کا پناہ دینے کا نظام بری طرح غیر فعال ثابت ہوا ہے اور حالیہ ہفتوں میں مکمل طور پر بدنظمی کا شکار نظر آیا ہے۔

’اگر یورپ مناسب طور پر خود کو منظم کر لے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‘

دوسری جانب جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ یورپی یونین میں پناہ گزینوں کو پناہ دینے سے متعلق بنیادی کوٹے میں اتفاق رائے ہونا ابھی بہت دور کی بات ہے تاہم کوٹے کے مخالفین کے موقف میں نرمی آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption توقع ہے کہ یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ینکر بدھ کو رکن ممالک میں لازمی طور پر 160,000 پناہ گزین تقسیم کرنے کی تجویز پیش کریں گے

انھوں نے کہا ہے کہ پناہ دینے کا بنیادی کوٹا اس جانب پہلا قدم ہے کہ یورپی اتحاد کا ہر ملک کتنے پناہ گزینوں کو اپناتا ہے۔

انھوں نے سویڈن کے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد کہا کہ پناہ گزینوں سے متعلق یورپی کمیشن کی تجاویز پہلا اہم قدم ہے اور یورپی یونین کو پناہ کا حق رکھنے والوں کو رکھنے کے حوالے سے بنا کسی حد بندی کے نظام کو اپنانا چاہیے۔

دریں اثنا سپین اور پولینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پہلے منصوبے کے برعکس اب زیادہ پناہ گزینوں کو رکھنے پر تیار ہے۔

اس سے پہلے جرمنی کے نائب چانسلر سگمار گیبریئل نے کہا ہے کہ جرمنی کئی برسوں تک ہر سال پناہ کے طلب گاروں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے۔

حکام کے مطابق صرف سنہ 2015 میں آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کی تعداد متوقع ہے اور یہ 2014 کے اعداد و شمار سے چار گنا زیادہ ہے۔

سگمار گیبریئل نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ یورپی ممالک کو اس کا منصفانہ حصہ لینا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام کے مطابق صرف سنہ 2015 میں 800,000 پناہ گزینوں کی تعداد متوقع ہے اور یہ 2014 کے اعداد و شمار سے چار گنا زیادہ ہے

یو این ایچ سی آر کہتی ہے کہ شامی گزینوں کی ریکارڈ تعداد سوموار کو مقدونیہ پہنچی اور تقریباً 30,000 تارکینِ وطن یونان کے جزیروں پر موجود ہیں۔

تارکینِ وطن کی بڑی تعداد نے یورپی حکومتوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے اور فوری ردِ عمل پر مجبور کر دیا ہے۔ ہنگری کی قدامت پسند قیادت سرحدوں پر باڑ لگا رہی ہے تاکہ پناہ گزینوں کے سیلاب کو روکا جا سکے جبکہ جرمنی کی حکومت اس بات پر فخر محسوس کر رہی ہے کہ اس کے عوام کے ہجوم پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے آ رہے ہیں۔

یونان کے وزیر نے سوموار کو کہا تھا کہ ترکی کے ساحل کے نزدیک یونان کا لیزبوس جزیرہ تارکینِ وطن کے بوجھ سے تقریباً ’پھٹنے‘ والا ہے کیونکہ وہاں سے کم از کم 20,000 تارکینِ وطن یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکومت اور یو این ایچ سی آر نے تارکینِ وطن کی مدد کے لیے اضافی سٹاف اور کشتیوں کا بندوبست کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پناہ گزینوں کے مسئلے نے یورپی یونین کو تقسیم کر دیا ہے

توقع ہے کہ اس سال جرمنی میں 800,000 تارکینِ وطن آئیں تاہم سگمار گیبریئل کہتے ہیں کہ لمبی مدت کے لیے مزید لوگوں کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے جرمنی کے زی ڈی ایف ٹی وی کو ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ہم کئی برسوں تک 500,000 افراد تک یقیناً لے سکتے ہیں ۔‘

’مجھ اس بارے میں کوئی شک نہیں۔ شاید اس سے بھی زیادہ۔‘

انھوں نے کہا کہ جرمنی غیر متناسب حصہ لے سکتا ہے لیکن یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک بھی اپنا حصہ ڈالیں۔

یو ایچ سی آر نے بھی تارکینِ وطن کے مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق 2015 میں سمندر کے راستے یورپ میں 400,000 تارکینِ وطن متوقع ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر شامی باشندے ہیں اور اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثر اردن اور لبنان کے پناہ گزین کیمپوں میں برے حالات کی وجہ سے یورپ میں بہتر زندگی کی تلاش میں ہیں۔

توقع ہے کہ یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ینکر بدھ کو رکن ممالک میں لازمی طور پر 160,000 پناہ گزین تقسیم کرنے کی تجویز پیش کریں گے جو کہ اقوامِ متحدہ کے مطابق اب واحد حل ہے۔

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں پر خصوصی مندوب پیٹر سدرلینڈ نے کہا ہے کہ ’تاریخ اسے یورپ کے اہم موڑ کے طور پر دیکھے گی۔‘

اس بحران نے یورپی یونین کے 28 ممالک کو تقسیم کر دیا ہے۔

ہنگری، جمہوریہ چیک، سلوینیا اور رومانیا نے کوٹے کے خیال کو ہی یہ کہتے ہوئے رد کر دیا ہے کہ اگر یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کا دفاع نہیں کیا جا سکتا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

یہ مسئلہ ہنگری میں سیاسی بحران بنتا جا رہا ہے۔ سوموار کو اس کے وزیرِ دفاع سابا ہیندے نے استعفیٰ دے دیا اور کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق سرحد پر لگائی جانے والی باڑ سے ہے۔

اسی بارے میں