یونان کے جزیرے پر پھنسے تارکینِ وطن کے انخلا کی کوششیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پیر کو ایک یونانی وزیر کا کہنا تھا کہ ’لیزبوس پھٹنے کے قریب ہے‘

یونان اور اقوام متحدہ نے یونان کے جزیرے لیزبوس پر پھنسے 25 ہزار تارکین وطن کے انخلا کے لیے اضافی عملہ اور بحری جہاز بھیجے ہیں۔

تارکین وطن کو ایتھنز پہنچانے کے لیے ایک خالی فٹبال گراؤنڈ میں مرکز بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

پیر کو ایک یونانی وزیر ژیانس موزالس کا کہنا تھا کہ ’لیزبوس پھٹنے کے قریب ہے‘.

یونانی حکام کا کہنا تھا کہ لیزبوس میں قائم پراسسنگ مرکز ہفتے کے پانچ روز 24 گھنٹے کام کرے گا۔ ان تارکین وطن میں سے بیشتر کا تعلق شام سے ہے۔

تاہم فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پے کی مطابق پیر کی شب درجنوں ساحلی محافظ اور مسلح پولیس اہلکار 25 ہزار تارکین وطن کو قابو کرنے میں مشکلات کا شکار رہے جب وہ ایک بحری جہاز کی جانب بڑھ رہے تھے۔

دوسری جانب سربیا سے مزید سینکڑوں تارکین وطن پولیس کی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے ہنگری میں داخل ہو گئے ہیں اور اب دارالحکومت بوڈاپیسٹ کی طرف جا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت پولیس کی نگرانی میں 300 تارکین وطن موٹر وے پر بوڈاپیسٹ کی جانب رواں دواں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہنگری میں مشرقِ وسطی اور افریقہ سے ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن پہنچ رہے ہیں

ہنگری میں مشرقِ وسطی اور افریقہ سے ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن پہنچ رہے ہیں تاکہ یہاں سے جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں پناہ حاصل کر سکیں۔

پیر کو ہنگری کے وزیر دفاع نے تارکین وطن کو روکنے کے لیے سرحدوں پر تعمیرات میں مسائل کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ہنگری نے اس سے پہلے تارکین وطن کو شمال کی جانب سے روکے رکھا تھا تاکہ یورپی قوانین کے تحت ان کا اندراج کیا جا سکے تاہم انھیں روکنے میں مشکلات کی وجہ سے اس نے جمعے کو پابندیوں میں نرمی کر دی تھی اور رواں اختتام ہفتہ پر 20 ہزار تارکین آسٹریا کے راستے جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

پیر کو ہنگری کے علاقے روژکے کے ایک کیمپ سے تارکین وطن کی نکلنے کی کوشش میں پولیس سے تصادم ہوا۔ اس دوران تارکین وطن نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جبکہ پولیس نے مرچوں کا سپرے استعمال کیا۔

دوسری جانب برطانیہ نے اگلے پانچ برس تک 20 ہزار تارکین وطن کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے

اس سے پہلے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی میں آنے والے پناہ گزینوں کی ’حیران کن‘ تعداد آنے والے برسوں میں ملک میں پھیل کر ملک کو بدل کر رکھ دے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’جرمنی اکیلا اس بحران سے نہیں نمٹ سکتا‘

انھوں نے کہا کہ جرمنی پناہ لینے کے طریقہ کار میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ ملک میں زیادہ گھر بھی تعمیر بھی کرے گا۔

جرمنی کی اتحادی حکومت نے تارکینِ وطن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے چھ ارب یورو پر مشتمل فنڈز جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

انگیلا میرکل نے یہ بھی کہا کہ جرمنی اکیلا اس بحران سے نہیں نمٹ سکتا۔ انھوں نے تمام یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ پناہ گزینوں کی مدد کریں۔

خیال ہے کہ گذشتہ سنیچر اور اتوار کو کم از کم 20 ہزار تارکین وطن جرمنی آئے تھے اور توقع ہے کہ پیر کو مزید 11 ہزار لوگ ملک میں داخل ہوں گے۔

اس سے قبل فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے اعلان کیا تھا کہ بحران سے نمٹنے کے لیے فرانس 24,000 پناہ گزینوں کو لینے کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ اور انگیلا میرکل چاہتے ہیں کہ یورپی یونین ایک ایسے منصوبے کی حمایت کرے جس کے تحت ہر ممبر ملک کے لازم ہو کہ وہ پناہ گزینوں کا منصفانہ حصہ لے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل تارکینِ وطن کے لیے ملکی سرحدوں کو کھولنے کے فیصلے پر تنقید کی زد میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یورپی یونین کے ممالک نے پناہ گزینوں کو تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے

یورپی کمیشن کی طرف سے نئے کوٹے کا اعلان بدھ کو متوقع ہے۔

سپین کے اخبار ال پیئس نے سوموار کو رپورٹ کیا تھا کہ سپین میں 120,000 پناہ گزین بسائے جائیں گے۔ یہ ان 40,000 پناہ گزینوں کے علاوہ ہے جن پر اس نے اس سے قبل رضامندی ظاہر کی تھی۔

ان 160,000 لوگوں میں یونان سے آنے والے 66,000، ہنگری سے آنے والے 54,000 اور اٹلی سے آنے والے 40,000 لوگ شامل ہیں۔

یونان نے ترکی سے آنے والے پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین سے ہنگامی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ جرمنی، آسٹریا اور ہنگری کی جانب سے پناہ گزینوں کے لیے موجود قوانین کو نرم کرنے کے معاہدے کے بعد گذشتہ ہفتے کے اختتام پر 18 ہزار افراد نے جرمنی کی سرحد عبور کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یورپ کے عوام دل کھول کر پناہ گزینوں کی مدد کر رہے ہیں

تاہم آسٹریا کے چانسلر ورنر فیمن نے کہا ہے کہ ایمرجنسی میں کیے جانے والے ان اقدامات کو ختم کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کا ملک مرحلہ وار بنیادوں پر معمول کی صورت حال پر لوٹے گا۔

خیال رہے کہ ہنگری نے پناہ گزینوں کے مغربی یورپ میں داخلے کو بند کر رکھا تھا تاہم گذشتہ جمعے کو یہ پابندی ہٹا دی گئی تھی۔

جرمن چانسلر نے اتحادی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے بعد اضافی فنڈز کا اعلان کیا تھا۔

جرمنی حکومت تین ارب یورو وفاقی ریاستوں اور مقامی کونسلوں کو دے گی۔ جبکہ باقی مزید تین ارب یورو وفاقی سطح پر ہونے والے پروگراموں کی مد میں خرچ کیے جائیں گے۔

ان منصوبوں میں تارکینِ وطن کو جگہ دینے کے لیے قائم مراکز میں اضافہ، موسمِ سرما کے لیے انتظامات، تارکینِ وطن کے لیے نقد رقم وغیرہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ جرمنی کو توقع ہے کہ رواں برس وہاں آنے والے کل مہاجرین کی تعداد آٹھ لاکھ ہو گی جس کے باعث وہ یورپ کے دیگر ممالک سے مدد چاہتا ہے۔

انگیلا میرکل کو تارکینِ وطن کا ہیرو قرار دیا جا رہا ہے مگر ان پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ہنگری سے تارکینِ وطن کو جرمنی میں داخلے کی اجازت دینا مکمل طور پر غلط علامت ہے۔

اسی بارے میں