کوریا جنگ میں بچھڑے خاندانوں کو ملوانے پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ری یونین کی سالانہ تقریب کا سلسلہ 1988 میں شروع ہوا تھا

سیول کے مطابق شمالی اور جنوبی کوریا نے ان خاندانوں کو مِلوانے کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے جو کوریا کی جنگ میں بچھڑ گئے تھے۔

ان بچھڑے خاندانوں کی ملاقات اکتوبر میں شمالی کوریا کے ایک سیاحتی مقام پر کرائی جائے گی۔ یہ فیصلہ گذشتہ ماہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدے کے بعد کیا گیا ہے۔

کوریا کی جنگ میں علیحدہ ہونے والے لوگوں کا اپنے عزیزوں سے ملنا اتنا آسان اور عام نہیں ہے اور ان کی ملاقات دونوں ملکوں کے تعلقات پر منحصر ہوتی ہے۔

ان لوگوں نے کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا۔

سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیون ایون کا کہنا ہے کہ لوگوں کی ری یونین کی سالانہ تقریب کا سلسلہ 1988 میں شروع ہوا تھا لیکن تعلقات کشیدہ ہونے کے سبب حالیہ سالوں میں اس تقریب کو اکثر منسوخ کیا جاتا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں جانب لوگوں کے درمیان رابطے تقریباً نہ کے برابر ہیں

ایسی آخری تقریب 2014 میں ہوئی تھی۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اپنے بچھڑے رشتے داروں سے ملنے کے خواہش مند لوگوں کی فہرست میں جنوبی کوریا کے تقریباً 66 ہزار لوگ شامل ہیں جن کی عمریں 80 سے 90 سال کے درمیان ہیں۔

20 سے 26 اکتوبر کے درمیان ہونے والی تقریب میں دونوں جانب سے سو سو لوگوں کو منتخب کیا گیا ہے جو اپنے رشتے داروں سے ملیں گے۔

دونوں ہی جانب لوگوں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ انتہائی مشکل اور محدود ہے۔

اسی بارے میں