ملکی دفاع میں قتل کب جائز؟

تصویر کے کاپی رائٹ MINISTRY OF DEFENCE
Image caption برطانوی حکومت نے کہا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیل 51 کے تحت کی گئی ہے

برطانوی فضائیہ نے ایک ڈرون حملے میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والے گروہ کے دو برطانوی جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔ قانون کی نظر میں اس حملے کی حیثیت کیا ہے؟

اس سال 21 اگست کو برطانوی فضائیہ کےڈرون حملے میں دولتِ اسلامیہ کے جو تین جنگجو ہلاک کیے گئے ان میں دو برطانوی شہری، 21 سالہ ریاض خان اور 26 سالہ

روح الامین شامل تھے۔ برطانوی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ریاض خان برطانیہ میں سلسہ وار بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

شام کے شہر رقہ پر برطانوی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں تین افراد میں دو برطانوی شہری شامل تھے جن میں 21 سالہ ریاض خان جن کا تعلق کارڈف سے تھا اور 26 سالہ روح الامین جو ابڈرین کے رہائشی تھے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ریاض خان برطانیہ میں دہشت گردی کی کئی وارداتوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ خان کو ہلاک کرنے کا واضح قانونی جواز موجود ہے۔ وزیر دفاع مائیکل فلون نے کہا کہ یہ حملہ سراسر جائز اور قانون کے دائرہ میں تھا۔

لیکن حزب اختلاف اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کے سابق اٹارنی جنرل ڈومینک گریو نے کہا ہے کہ شام میں ڈرون حملہ کرنے کا فیصلہ قانونی طور پر چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

حکمران قدامت پسند جماعت کنّرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمان ڈیوڈ ڈیوس نے کہا ہے کہ یہ حملہ ماورائے عدالت قتل کے ضمرے میں آتا ہے۔

تو پھر شام میں کارروائی کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption برطانوی فضائیہ کےڈرون حملے میں دولتِ اسلامیہ کے دو برطانوی جنگجو21 سالہ ریاض خان اور 26 سالہ روح الامین شامل تھے

اس حملے کا قانونی جواز پیش کرتے ہوئے حکومت نے کہا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیل 51 کے تحت کی گئی ہے۔

اس آرٹیکل کے تحت کوئی بھی رکن ملک کسی ممکنہ حملے کے خطرےکی صورت میں اپنے دفاع میں کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے اس بات کا واضح ثبوت موجود ہے کہ برطانیہ پر مسلح حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔

گارڈین میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں قانونی امور کے تبصرہ نگار جوشوا روزنبرگ کا استدلال تھا کہ بین الاقومی قانون کی طرح برطانوی قانون میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ جوابی کارروائی کے لیے آپ کو کسی جارح کی طرف سے حملہ کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں تاوقتکہ جوابی کارروائی ناگزیر اور متناسب ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ آرٹیکل 51 کے تحت اپ کو دکھانا ہوتا ہے کہ حملہ ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے۔

امریکہ نے سنہ 2011 میں جب یمن میں حملہ کیا تھا تو اس نے آرٹیکل 51 کو ہی توجیہہ بنائی تھی۔ اس حملے میں امریکی نژاد انور اوالاکی کو ڈرون حملے میں ہلاک کیا تھا جن کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ دنیا بھر میں ہونے والے حملوں میں ملوث تھے۔

سنہ 2009 میں جب امریکی ریاست میشی گن سے ایک جہاز کو حملہ کر کے اڑانے کی ناکام کوشش کی گئی تو اس کے بعد امریکی صدر نے سی آئی اے کو اوالاکی کو مارنے کا اخیتار دیا۔

لیکن ان کے اہلِ خان نے کہا کہ وہ دہشت گرد نہیں تھے اور انھوں نے امریکہ کے اپنے ہی شہری کو عدالتی کارروائی کے بغیر مارنے کو چیلنج کر دیا۔

اوالاکی کی ہلاکت کے بعد چھپنے والے قانونی نکتہ نظر میں امریکہ کے اٹارنی جنرل ڈیوڈ بیرونسیٹیڈا نے اسرائیلی سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں سیلف ڈیفنس یا اپنے دفاعی میں ٹارگٹ کلنگ کے اس فیصلے کو جائزہ قرار دیا گیا تھا۔

یونیورسٹی کالج لندن میں قانون کے استاد ، پروفیسر فیلپ سینڈز نے بی بی سی ٹوڈے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 51 برطانیہ کے لیے ایک ’نئی سمت‘ ہے۔اس سے قبل اسے بین القوامی قوانین کے بجائے جرائم کے مقدمات میں استعمال کیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ملکی دفاع میں بہت دور کی جگہ کو نشانہ بنانا بین القوامی قوانین میں کبھی بھی اچھا نہیں رہا۔ اس کے لیے قریب ہونا ضروری ہے اورہ ہمیں شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔

رائل ایئر فورس، ویڈینگٹن میں کنٹرول سٹیشن میں ڈرونز کی نقل وحرکت کو کنٹرول کتا ہے۔

لیبر پارٹی اور لیبرل ڈیموکریٹس نےاس پر قانونی مشورہ طلب کیا تھا۔ مگر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔

کیٹ گریگ جو کہ ہیومن رائٹس گروپ کے لیگل ڈائریکٹر ہیں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیراعظم نے دنیا میں کسی کو بھی مارنے کے لیے خود کو ایک خفیہ، غیر نظرثانی کی طاقت دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں عراق میں سرگرم دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے والوں میں مغرب کے کئی نوجوان شامل ہیں

کچھ کا خیال ہے کہ وزیراعظم کو فوجی کارروائی سے قبل پارلیمان سے توثیق کروانی چاہیے۔ خاص طور پر ایوانِ نمائندگان سے جس نے شام میں فضائی کارروائی کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

روزن برگ کا کہنا ہے کہ شاید رسمی طور پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے تاہم وہ کہتے ہیں کہ اس کی قانونی ضرورت نہیں ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اس مسئلے پر رائے منقسم رہے گی بالکل اسی طرح جیسے شمالی آئرلینڈ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جب برطانوی حکام نے ’گولی مار کر ہلاک‘ کرنے کی پالیسی اختیار کی تھی۔

سنہ 1995 میں یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کو جبرالٹر میں آئی آر اے کے تین ممبران کی ہلاکت کا پتہ چلا تھا۔اسے یورپی کنوینشن برائے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا جس کے مطابق ہر انسان کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔

اسی بارے میں