ترکی کی عراق میں کرد جنگجوؤں کے خلاف زمینی کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ترکی کی زمینی افواج کرد جنگجوؤں کا پیچھا کرتی ہوئے ایک بار پھر شمالی عراق میں گھس گئی ہیں۔

ترکی کی حکومت نے کہا ہے کہ ترک فوجی کردستان ورکرز پارٹی کے باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی غرض سے ایک مختصر مدت کے لیے عراق میں داخل ہوئے ہیں۔

ترکی کی زمینی افواج دو سال پہلے ہونے والے فائر بندی کے اعلان کے بعد پہلی بار عراق میں داخل ہوئی ہیں۔

ترکی کی زمینی افواج کے عراق میں داخل ہونے سے پہلے ترکی کے جنگی طیاروں نے کردستان ورکرز پاٹی کے شمالی عراق میں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

گذشتہ دو دنوں میں کرد جنگجوؤں کے مبینہ حملوں میں 28 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

منگل کے روز ترک پولیس کے چودہ اہلکار اس وقت ہلاک ہوگئے جب ان کی بس کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ترک پولیس پر حملہ کرد جنگجوؤں کی کارروائی ہے۔

اس سے قبل ترکی کے علاقے حکاری میں ترکی کے16 فوجی بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا ہے کہ پی کے کے کو ترکی کے اندر اور باہر سخت نقصان پہنچا ہے اور اب وہ گبھراہٹ کے عالم میں ہے۔

منگل کے روز جب ترک طیاروں نے شمالی عراق میں کرد ٹھکانوں پر بمباری کی تو کرد جنگجوؤں نے ترکی کے شمالی سرحدی علاقے میں ایک پولیس بس کو بم دھماکے سے تباہ کر دیا جس میں کم از کم چود ہ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

ترکی کی دوگان خبر رساں ادارے کے مطابق سپیشل فورسز کے دو یونٹوں نے، جنہیں جنگی جہازوں کی بھی مدد حاصل تھی، کرد جنگجوؤں کے دو گرہوں کو نشانہ بنایا جن میں کم از کم 35 باغی ہلاک ہو گئے ہیں۔

ترکی رواں برس نومبر میں ایک بار پھر انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ جون میں ہونے والے انتخابات میں حکمران اے کے پارٹی حکومت سازی کے لیے اراکان اسمبلی کی مطلوبہ تعداد حاصل میں ناکام رہی تھی اور کوئی دوسری جماعت ان کی ساتھ مخلوط حکومت بنانے پر راضی نہ ہوئی۔

اسی بارے میں