نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں 50 فیصد کمی آئی ہے: اقوام متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اموات کی شرح میں کمی کے باوجود بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 90 کی دہائی کے بعد سے دنیا میں نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح میں 50 فیصد تک کمی آئی ہے۔

اقوام ِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسف اور عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 25 سال قبل ایک کروڑ 27 لاکھ بچے پانچ کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے تھے لیکن رواں سال پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اموات کی تعداد 60 لاکھ سے کم رہی۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اموات کی شرح میں کمی کے باوجود بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1990 سے 2015 کے درمیان اقوام متحدہ نے کم عمر بچوں میں اموات کی شرح میں دو تہائی کمی کا ہدف مقرر کیا تھا جو حاصل نہیں ہو سکا۔

لیکن اس عرصے کے دوران شرح اموات میں 53 فیصد کمی آئی ہے۔

یونیسف کی نائب سربراہ گیتا راؤ گپتا کا کہنا ہے کہ ’ہم عالمی سطح پر ہونے والے اس بہتر کارکردگی کو تسلیم کرتے ہیں لیکن ابھی بھی پانچ سال سے کم عمر کے بہت سے بچے ایسے بیماریوں کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں جو قابلِ علاج ہیں۔ ہمیں یہ جاننے کے لیے دوگنی کوشش کرنا ہو گی کہ ہمیں اسے روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ایک دن میں 16 سو بچے بیمار ہو کر مر جاتے ہیں اور ان بچوں کی اکثریت نمویا، دست اور ملیریا جیسی قابل علاج بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوتی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق بچوں میں نصف اموات غدائیت میں کمی کے باعث ہوتی ہیں۔

بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ پیدائش کے ابتدائی ایام میں ہوتا ہے اور 45 فیصد ہلاکتیں پیدائش کے پہلے ماہ میں ہوتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیم صحرائی افریقی ممالک میں ہر 12 میں ایک بچہ پانچ سے سال سے پہلے مرجاتا ہے جبکہ ترقی یاتتہ اور امیر ممالک میں نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح بہت کم ہے۔

امیر ممالک میں 147 بچوں میں ایک نوزائیدہ بچہ ہلاک ہوتا ہے۔

اسی بارے میں