ملکہ الزبتھ دوم: برطانوی قوم کی نظر میں

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عوامی جائزوں کو مدِنظر رکھا جائے تو ملکہ الزبتھ اپنے عوام میں بہت مقبول رہی ہیں

ملکہ الزبتھ دوم سنہ 2007 میں برطانوی تاریخ کی سب سے عمر رسیدہ حکمران بن کر پہلی بار ریکارڈ بکس کا حصہ بنیں۔

اب ملکہ نے ایک اور سنگِ میل عبور کیا ہے اور وہ برطانوی شہنشایت کے ایک ہزار سال سے زیادہ کے عرصے میں سب سے زیادہ مدت تک تخت نشین رہنے والی شخصیت بن گئی ہیں۔

بدھ کو 89 سالہ ملکہ الزبتھ نے ملکہ وکٹوریہ کا سب سے زیادہ عرصے تک تخت نشین رہنے کا ریکارڈ توڑا ہے جو 63 برس سات ماہ اور دن تک حکمران رہی تھیں۔

ملکۂ برطانیہ نے اس عرصے میں برطانیہ اور دنیا بھر میں تاریخ کو بنتے اور بدلتے دیکھا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ انھیں لوگ کیسے دیکھتے ہیں اور ان کے اس تاریخ ساز دورِ اقتدار میں ان کے بارے میں عوامی نظریات کیسے تبدیل ہوئے ہیں؟

عوامی جائزوں کو مدِنظر رکھا جائے تو ملکہ الزبتھ اس عرصے کے دوران اپنے عوام میں بہت مقبول رہی ہیں۔

تین برس قبل کے ایک جائزے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں 90 فیصد عوام ملکہ کے طرزِ عمل سے خوش ہیں اور صرف سات فیصد کو ان کی کارکردگی پسند نہیں آئی۔

سروے کروانے والی کمپنی کے محققین کا کہنا ہے کہ 2012 میں ملکہ کی تخت نشینی کی ڈائمنڈ جوبلی کے فوراً بعد کیے جانے والے ’اس سروے میں ملکہ کو جو مقبولیت حاصل ہوئی، سیاست دان صرف اس کا تصور ہی کر سکتے ہیں۔‘

برطانیہ کی حالیہ تاریخ میں اگر کوئی سیاست دان مقبولیت کے معاملے میں ملکہ کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہوا تو وہ ٹونی بلیئر تھے جن کی 1998 میں مقبولیت کی شرح 62 فیصد تھی جبکہ اس وقت ملکہ کو پسند کرنے والوں کی شرح 66 فیصد تھی۔

الزبتھ دوم کی عوامی مقبولیت کا رجحان حال ہی میں یوگورنمنٹ کے تازہ ترین جائزے سے بھی ظاہر ہے جس میں 27 فیصد نے انھیں سب سے مقبول برطانوی حکمران قرار دیا جبکہ ملکہ وکٹوریہ کو 12 اور الزبتھ اوّل کو 13 فیصد ووٹ ملے۔

Image caption ملکہ الزبتھ نے ملکہ وکٹوریہ کا سب سے زیادہ عرصے تک تخت نشین رہنے کا ریکارڈ توڑا ہے

پرنس چارمنگ

تاہم ملکہ الزبتھ دوم کی ’شہرت اور مقبولیت‘ ان ہی کے خاندان کے ایک فرد سے کم ہے۔ جب بات برطانیہ کے شاہی خاندان میں اپنے پسندیدہ فرد کے چناؤ کی ہو تو عوام کو ملکہ سے زیادہ ان کے پوتے شہزادہ ولیم پسند ہیں۔

2014 میں برطانوی اخبار دی انڈی پینڈنٹ کے لیے کروائے جانے والے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ آنجہانی لیڈی ڈیانا کے بڑے بیٹے شہزادہ ولیم 68 فیصد افراد کے پسندیدہ ہیں، جبکہ ملکہ کو پسند کرنے والوں کی شرح 63 فیصد اور ولی عہد شہزادہ چارلس کے مداحوں کی شرح 43 فیصد تھی۔

شہزادہ ولیم کی دورِ حاضر کے ایک ’منکسر المزاج‘ شہزادے کا تاثر ممکنہ طور پر شاہی خاندان کی عوامی نظر میں اپنی ’ری برانڈنگ‘ کی ایک کامیاب کوشش سمجھی جا سکتی ہے۔

بظاہر یہ کوشش ملک کی نوجوان نسل پر کارگر بھی رہی ہے اور تازہ جائزوں کے مطابق 18 سے 34 برس کی آبادی میں شہزادہ ولیم کی مقبولیت 87 فیصد کے لگ بھگ ہے۔

شاہی خاندان کی کچھ اہم تقریبات نے بھی عوام میں ان کا تاثر مزید بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ہے اور ان میں سب سے بڑی تقریب شہزادہ ولیم اور کیتھرین مڈلٹن کی شادی تھی جسے ’صدی کی شاہی شادی‘ قرار دیا گیا۔

اس جوڑے کے یہاں شہزادہ جارج اور شہزادی شارلٹ کی پیدائش بھی برطانوی عوام کو اپنے حکمران شاہی خاندان کے قریب لائی ہے۔

کام ریس اور سی این این کے ایک سروے میں حصہ لینے والے 79 فیصد افراد نے کہا تھا کہ ولیم اور کیٹ کی شادی ’شہنشایت کے مستقبل کے لیے مفید ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شہزادہ ولیم اور کیتھرین مڈلٹن کی شادی کو صدی کی شاہی شادی قرار دیا گیا

تبدیلی کی ہوائیں

اس سب کے باوجود برطانیہ پر سب سے زیادہ عرصے تک حکومت کرنے والی ملکہ کو ہمیشہ ہی اپنی رعایا سے موافق ردعمل نہیں ملا۔

1990 کی دہائی میں شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کی طلاق کے بعد جہاں شاہی خاندان کی مجموعی مقبولیت کم ہوئی، وہیں ملکہ الزبتھ کی ذاتی مقبولیت بھی کم ہو کر 66 فیصد سے بھی نیچے آ گئی تھی۔

1997 میں شہزادی ڈیانا کی ہلاکت کے بعد عوامی ہمدردی کی شکل میں اس مقبولیت میں کچھ اضافہ ہوا تھا کیونکہ تجزیہ کاروں کے خیال میں برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس برطانیہ اور بیرونِ ملک دونوں جگہ حکمران خاندان کے بارے میں عوامی رائے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

2002 میں تخت نشینی کے 50 برس کی تکمیل نے ملکہ کی مقبولیت میں مزید اضافہ کیا اور وہ اس وقت ایک ریکارڈ سطح تھی جب ہر دس میں سے آٹھ برطانوی ان کی کارکردگی سے مطمئن تھے۔

سوال یہ ہے کہ برطانوی ملکہ الزبتھ دوم سے اتنے وفادار کیوں ہیں؟

بہت سے افراد کا خیال ہے کہ ملکہ استقلال کی علامت اور اتحاد کا منبع ہیں۔

شاہی خاندان کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار نکولس وچل کا کہنا ہے کہ ’وہ کئی دہائیوں سے ایک ایسے طریقۂ کار پر عمل کرتی آ رہی ہیں جس میں بمشکل ہی کوئی تبدیلی آئی ہے۔ وہ فرض اور رواقیت یعنی غم اور خوشی سے بےنیازی کی زندہ مثال ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شہنشایت کے حامی اور مخالفین دونوں ہی عوامی رائے کو مکمل طور پر اپنا حامی بنانے میں ناکام رہے ہیں

خدا ملکہ کا محافظ ہو۔۔۔ یا پھر نھیں

تاہم ملکہ الزبتھ کی یہ مثبت شبیہ کسی بھی طریقے سے متفقہ نہیں ہے۔ جہاں بہت سے برطانوی شاہی خاندان کی پروا نہیں کرتے وہیں شاہی خاندان کے خلاف آواز اٹھانے والے بھی موجود ہیں۔

یہ تنازع نیا نہیں ہے۔ 18ویں صدی میں ٹامس پین اور والٹر بیگہوٹ جیسے مفکرین نے بھی یہ بحث چھیڑی تھی۔

1776 میں شائع ہونے والے’کامن سینس‘ نامی پمفلٹ نے پین کو رپبلکن ازم کی آواز بنا دیا تھا۔

انھوں نے آج بھی برطانوی رپبلکنز کے لیے مقدس سمجھے جانے والے اس پمفلٹ میں لکھا تھا کہ ’اس شہنشایت کی ساخت یا بناوٹ میں کوئی چیز تو بےحد مضحکہ خیز ہے۔‘

اس کے برعکس والٹر بیگہوٹ جیسے شہنشایت پسند مفکرین کا خیال تھا کہ ’امریکی ہماری ملکہ کی پراسرار عظمت، مذہبی معتقدین کی وجہ سے ان کا مذاق اڑاتے ہیں جبکہ یہ اصل شہنشایت کے لیے لازمی ہیں کیونکہ یہ وہ خیالات پر مشتمل جذبات ہیں جو کوئی قانون عوام کے اندر نہیں ابھار سکتا۔‘

شہنشایت کے حامی اور مخالفین دونوں ہی عوامی رائے کو مکمل طور پر اپنا حامی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ 20 فیصد سے بھی کم برطانوی شاہی خاندان سے چھٹکارا چاہتے ہیں اور اس شرح میں ملکہ الزبتھ دوم کے دور میں نہ ہونے کے برابر تبدیلی آئی ہے۔

ایم او آر آئی کے پول کے مطابق جمہوریہ کے حق میں رائے دینے والے افراد کی تعداد 1969 اور 1993 میں 18 فیصد، 2002 میں 19 فیصد اور 2011 میں 18 فیصد تھی۔

Image caption شاہی خاندان کی سرگرمیوں پر جن میں سے بیشتر علامتی ہوتی ہیں، گذشتہ برس برطانوی ٹیکس دہندگان کی پانچ کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مساوی رقم خرچ ہوئی

معیشت پر بوجھ

شہنشایت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں کفایت شعاری اور سخت اقتصادی بحران کے تناظر میں بھی تیزی آئی ہے۔

شاہی خاندان کی سرگرمیوں پر جن میں سے بیشتر علامتی ہوتی ہیں، گذشتہ برس برطانوی ٹیکس دہندگان کی پانچ کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مساوی رقم خرچ ہوئی۔

شاہی خاندان کے اخراجات کے لیے برطانوی حکومت کی جانب سے مہیا کی جانے والی رقم میں سنہ 2012 کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی کا اضافہ ہو چکا ہے۔

ساورن گرانٹ ایکٹ کے مطابق شاہی خاندان کو دی جانے والی رقم میں کمی نہیں کی جا سکتی جس کی وجہ سے برطانیہ کا شاہی خاندان اپنے بجٹ میں ان کٹوتیوں سے محفوظ رہا ہے جس کا سامنا ملک کے پبلک سیکٹر کو ہے۔