جرمنی کو تارکین وطن کی زیادہ ضرورت کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جرمنی کی آبادی 2013 میں 8.13 کروڑ سے کم ہو کر 2060 میں 7.08 کروڑ ہو جائے گی جبکہ برطانیہ کی آبادی 6.41 کروڑ سے بڑھ کر 8.01 کروڑ تک پہنچ جائے گی

پناہ گزینوں کے حوالے سے جرمنی اور برطانیہ کی مختلف پالیسیوں کا تعلق معیشت اور آبادیات سے ہے۔ جرمنی کی پالیسی ہے کہ ’ہمارے دروازے کھلے ہیں‘ جبکہ برطانیہ کی پالیسی نہایت سخت ہے جس کو آج برطانوی وزیراعظم کچھ نرم کریں گے۔

اخلاقیات کے علاوہ دونوں ممالک کی پالیسیوں کے دو متعلقہ نکات یہ ہیں:

1) برطانیہ کی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ جرمنی کی آبادی میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔

2) جرمنی میں کام کرنے والی آبادی کے مقابلے میں عمر رسیدہ افراد کا تناسب برطانیہ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ شام اور دیگر ممالک سے ایسے جوان خاندانوں کی آمد سے جرمنی کو فائدہ ہو گا جو کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور محنت کر کے یہ ثابت کرنے کو تیار ہیں کہ وہ کسی پر بوجھ نہیں ہیں۔ ایسا ماضی میں دنیا بھر میں پناہ گزینوں نے کیا ہے، جیسے لندن کے ایسٹ اینڈ کے یہودیوں نے۔

رواں سال کے آغاز پر یورپی کمیشن نے عمررسیدگی کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس میں پیشن گوئی کی گئی ہے کہ جرمنی کی آبادی 2013 میں 8.13 کروڑ سے کم ہو کر 2060 میں 7.08 کروڑ ہو جائے گی جبکہ برطانیہ کی آبادی 6.41 کروڑ سے بڑھ کر 8.01 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

صاف ظاہر ہے کہ زیادہ شرح پیدائش اور تارکین وطن کی زیادہ ممکنہ آمد کے باعث برطانیہ یورپی یونین میں جرمنی اور فرانس کو پیچھے چھوڑ کر سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ یورپی کمیشن کی اس رپورٹ میں جرمنی کی آبادی کی 2060 میں پیش گوئی میں اس بات کو مدِ نظر رکھا گیا ہے کہ 2013 میں جرمنی میں تارکین وطن کی آمد کی شرح نو فیصد ہو گی جبکہ برطانیہ میں یہ شرح 14 فیصد رکھی گئی ہے۔ اس لیے جرمنی برطانیہ کے مقابلے میں کم کثیر الثقافتی ملک ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جہاں تک کام کرنے والی آبادی کے مقابلے میں عمر رسیدہ افراد کا تناسب کا تعلق ہے تو یورپی کمیشن کی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2060 تک 15 سے 64 سال کے عمر کے لوگوں کے مقابلے میں 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کا تناسب 32 فیصد سے بڑھ کر 59 فیصد ہو جائے گا۔

دوسرے الفاظ میں 2060 تک جرمنی میں 65 سے معمر ہر شخص کو ٹیکسوں کی مدد سے سہارا فراہم کرنے والے افراد کی تعداد دو سے کم ہو جائے گی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ملک میں لوگوں کی عمروں میں تقریباً برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم برطانیہ میں کام کرنے والی آبادی کے مقابلے میں عمر رسیدہ افراد کا تناسب بڑھے گا لیکن کم شرح سے بڑھے گا یعنی 27 فیصد سے 43 فیصد۔ اگرچہ یہ جوان لوگوں پر بڑا بوجھ ہے لیکن جرمنی کے مقابلے میں کم۔

حکومتی مالیات پر عمر رسیدہ افراد کا بوجھ عمر رسیدگی کے اثر کو جانچنے کا ایک طریقہ ہے۔

جرمنی میں عمر رسیدہ افراد کی پینشن، ہیلتھ اور طویل مدتی دیکھ بھال پر 2060 تک سرکاری خرچے میں قومی پیداوار کے پانچ فیصد اضافہ ہو گا جو کہ بہت زیادہ ہے جبکہ برطانیہ میں توقع کی جا رہی ہے کہ یہ شرح 2.3 فیصد ہو گی۔

بات یہ ہے کہ اس سے قطع نظر کہ تارکین وطن پر ہونے والی بحث پر آپ کا موقف کیا ہے، زیادہ تر ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کے باعث ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس وقت پناہ گزینوں کی جرمنی میں آمد زیادہ فائدہ مند ہے بہ نسبت برطانیہ کے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اور شاید اسی لیے جرمنی شام اور دیگر ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو خوش آمدید کہہ رہا ہے۔

اسی لیے برطانوی کاروباری شخصیات اور کچھ وزرا نے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی تارکین وطن کی پالیسی پر تنقید کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل زیادہ فائدہ مند پناہ گزینوں کو پناہ دے رہی ہیں، وہ تارکین وطن جنھوں نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور جان جوکھوں میں ڈال کر یورپ کی جانب سفر اختیار کیا۔

ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ سب سے جلد کام ڈھونڈ لیتے ہیں اور معیشت پر بوجھ نہیں بنتے۔

دوسری جانب ڈیوڈ کیمرون اس پالیسی پر گامزن ہیں جو اخلاقی طور پر زیادہ بہتر ہے یعنی وہ شامی کیمپوں میں جا کر بچوں اور سب سے زیادہ متاثر افراد کو برطانیہ مدعو کر رہے ہیں۔

لیکن یہ پالیسی مختصر مدت میں زیادہ مہنگی پڑے گی۔

اسی بارے میں