جاپان میں تباہ کن سیلاب، امدادی کارروائیاں جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اب تک 51 ہیلی کاپٹر اور تقریبا 6,000 ریسکیو اہلکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں

جاپانی حکام کے مطابق سیلاب سے متاثرہ ایباراکی اور ٹوچیگی صوبوں میں سیلاب میں پھنسے سینکڑوں افراد کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کم ازکم دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے جبکہ 25 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

جاپان میں سیلاب ( تصاویر میں)

جمعرات کو کنوگوا دریا کے بپھرنے کے بعد جوسکو شہر کے قریب متعدد افراد رات بھر اپنے گھروں کی چھتوں پر امداد کے منتظر رہے۔

حکام نے مزید شدید بارشوں اور مٹی کے تودے گرنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ریسکیو رضاکار کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وہاں پھنسے رہائشیوں کو نکالنے کی کوشش کررہے ہیں

جمعے کے روز ناناکِتاگاوا دریا میں سے ازومی وارڈ نامی علاقے میں گھر اور کھیت کھلیان سیلابی پانی میں بہنے کے بعد میاگی صوبے کے دارالحکومت سینڈائی میں چار لاکھ سے زائد افراد کو علاقہ خالی کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

شمالی ٹوکیو سے تقریبا 350 کلو میٹر پر واقع مِیاگی صوبے کی دیہی علاقے اوساکی کے شیبوئی دریا میں تغیانی کے باعث بیشترگھر اور چاول کی فصلیں پانی میں بہہ گئیں۔ ریسکیو رضاکار کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وہاں پھنسے رہائشیوں کو نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

شدید بارشوں کا سلسلہ رواں ہفتے کے آغاز میں جاپان میں آنے والے اتاؤ طوفان کی وجہ سے شروع ہوا جس نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی۔

جمعرات کی رات سے لے کر اب تک 51 ہیلی کاپٹر اور تقریبا 6,000 ریسکیو اہلکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

جوسو میں امدادی عملے نے رات بھر گھروں کی چھتوں پر امداد کے منتظر درجنوں افراد کو وہاں سے نکال لیا ہے۔ اُنھیں شہر کے ایک کھیل کے میدان میں رکھا گیا ہے، بہت سے لوگ اپنے ہمراہ کوئی سازوسامان نہیں لائے جبکہ کچھ ایسے ہیں جن کے پاؤں میں جوتے بھی نہیں ہیں۔

3,500 سے زائد افراد کو اس آفت کے باعث عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

جاپان کے عوامی نشریاتی ادارے این ایچ کے کا کہنا ہے کہ صرف جوسو میں جمعرات کے روز سے 700 کے قریب افراد تاحال پھنسے ہوئے ہیں اور مدد کے منتظر ہیں۔

ٹوکیو سے 50 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع 60 ہزار افراد پر مشتمل شہر کے حکام کا کہنا ہے کہ 22 افراد نے مدد کی اپیل کی جس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ این ایچ کے کے مطابق اطلاعات ہیں کہ ان 22 لاپتہ افراد میں آٹھ سال کے دو بچے بھی شامل ہیں۔

جمعے کے روز تک سیلابی پانی کسی حد تک کم ہوچکا تھا لیکن شہر کا زیادہ تر حصہ اب بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور یہ واضح نہیں ہوسکا کہ پناہ گزین کب تک اپنے گھروں کو واپس جاسکیں گے۔

توچگی میں سیلاب سے متاثرہ علاقے کنوما میں ایک 63 سالہ معمر خاتون گھر پر مٹی کا تودا گرنے کے باعث ہلاک ہوگئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اتنی بڑی تعداد میں فون کالز کی جارہی تھیں کہ امدادی کارکن ہر کال کا جواب دینے سے قاصر تھے: ریسکیو ہلکار

جبکہ میاگی صوبے کے شہرکیوریہارامیں ایک اور 48 سالہ خاتون کار کے سیلابی پانی میں بہہ جانے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

کم از کم 27 افراد زخمی ہوچکے ہیں جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک ہے۔

62 سالہ ہساکو سیکیموتو نامی خاتون جنھیں صبح سویرے ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کیا گیا نے بتایا کہ انھوں نے سیلابی پانی میں گِھرے اپنے گھر کی اُوپری منزل پر اپنے شوہر اور تین بلیوں کے ہمراہ رات جاگ کرگزاری۔

انھوں نے کہا کہ’انھیں سیلاب سے بچاؤ کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ اُن کے پاس بس اتنا وقت تھا کہ وہ سیڑھیوں سے اُوپر چلے جائیں۔ یہ بہت ہولناک تھا۔ میں مسلسل دعا کرتی رہی کہ پانی سیڑھیوں سے اُوپر نہ آئے۔‘

جوسو شہر کے ایک امدادی اہلکار اکیرا موٹوکووا نے این ایچ کے کو بتایا کہ امداد کے لیے اتنی بڑی تعداد میں فون کالز کی جارہی تھیں کہ امدادی کارکن ہر کال کا جواب دینے سے قاصر تھے۔

اسی بارے میں