مسجد الحرام میں کرین گرنے سے 107 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسجد حرام میں جائے حادثہ سے ملبہ ہٹا لیا گیا ہے اور حکام نے مکمل جانچ کا حکم دیا ہے

سعودی عرب کے شہر مکہ کی مسجد الحرام کے صحن میں کرین گرنے سے 107 افراد کی ہلاکت کے بعد حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

شہر میں ایک شدید طوفان کے نتیجے میں ہونے والے اس حادثے میں 200 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

کرین حادثہ تصاویر میں

مکہ: پیغمبرِ اسلام کی جائے ولادت کی مسماری کا خطرہ

مکہ کےگورنر خالد الفیصل نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت موسم بہت خراب تھا اور 83 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ جو اس حادثے کا سبب بنی ہیں۔

خیال رہے کہ حج کے موقعے پر مسجد حرام میں تعمیری کام جاری تھا اور اس کی وجہ مسجد میں توسیع تھی تاکہ مزید زائرین کے لیے گنجائش پیدا ہو سکے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے تعمیراتی مقامات پر موجود حفاظتی اقدامات پر خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عرب ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کرین تیز ہواؤں کی وجہ سے مسجد کی چھت پھاڑتے ہوئے نیچے آ گری

ابھی تک تقریبا 10 لاکھ افراد حج کے لیے مکہ پہنچ چکے ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں اس بھی زیادہ لوگوں کی آمد کی امید کی جار رہی ہے۔

حکام کی جانب سے ہلاک شدگان کی شناخت اور قومیتوں کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ جس وقت حادثہ پیش آیا مسجد الحرام نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔

سوشل میڈیا پر شائع کی جانے والی تصاویر میں بھی بہت سی لاشوں اور زخمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مکہ کے علاقے کے گورنر خالد الفیصل کو مقامی انتظامیہ حادثے کے بارے میں تفصیل بتا رہی ہے

ویڈیو شئیرنگ کی ویب سائٹ یوٹیوب پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں کرین گرنے کے لمحے کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ویڈیو کی تصدیق نہیں ہو سکی لیکن اس میں کرین گرنے کے بعد احاطے میں افراتفری نظر آتی ہے اور لوگ چیخ رہے ہیں۔

دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ پہنچے ہوئے ہیں اور اس سال حج کے لیے مجموعی طور پر 30 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی سعودی عرب آمد متوقع ہے۔

سعودی محکمۂ شہری دفاع کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ سلیمان ابن عبداللہ المار نے کہا ہے کہ تیز ہوا اور شدید بارش کے نتیجے میں کرین گرنے کا حادثہ رونما ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ کرین مقامی وقت کے مطابق شام کو 5.23 منٹ پر گری اور اس وقت مسجد میں نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’تیز ہوا اور شدید بارش کے نتیجے میں کرین گرنے کا حادثہ رونما ہوا‘

انھوں نے کہا کہ کرین گرنے کے واقعے سے کچھ دیر پہلے شہر میں غیر معمولی بارش ہو رہی تھی اور اس کے ساتھ 83 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی تھیں۔

لیفٹیننٹ سلیمان ابن عبداللہ المار کے مطابق حادثے کے نتیجے میں ہونے والی نقصان اور حفاظتی انتظامات سے متعلق تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

بھارت کے دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ کرین گرنے کے حادثے میں بھارت کے نو شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سینیئر بھارتی افسر موقع پر موجود ہیں۔ بھارتی ڈاکٹروں کو تمام سرکاری ہسپتالوں میں بھیجا گیا ہے اور ہم مزید معلومات کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

مکہ میں عازمینِ جج اور زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے پرانی عمارتوں کے انہدام اور ان کی جگہ بلند و بالا ہوٹلوں اور دیگر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مکہ میں بلند و بالا ہوٹلوں اور دیگر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے

اگرچہ اس عمل کے دوران بہت سے ایسے تاریخی مقامات بھی منہدم کیے گئے ہیں جو پیغمبر اسلام کے زمانے کے تھے لیکن سعودی حکام کا موقف ہے کہ حاجیوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے یہ اقدامات ضروری ہیں۔

ماضی میں بھی حج کے موقع پر سعودی عرب میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔

سنہ 2006 میں حج کے دوران منیٰ کے مقام پر رمی جمرات کے دوران بھگدڑ مچنے سے ساڑھے تین سو کے قریب حاجی ہلاک ہوئے تھے۔