نیویارک پولیس کی سابق ٹینس کھلاڑی کی گرفتاری پر معذرت

Image caption نیو یارک پولیس کے کمشنر ولیم بریٹھن کے مطابق بلیک مشتبہ ملزم کے ’جڑواں‘ لگ رہے تھے

امریکہ کے شہر نیو یارک میں پولیس نے سابق پیشہ ور ٹینس کھلاڑی جیمز بلیک کو غلطی سے گرفتار کرنے کی ویڈیو جاری کردی ہے۔

جیمز بلیک یوایس اوپن میں شرکت کے لیے اپنی منزل کی جانب گامزن کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار نے انھیں اچانک دبوچ لیا اور سڑک پر گرانے کے بعد انھیں ہتھکڑیاں لگادیں۔

جیمز بلیک کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنے والے افسر کی شناخت جیمز فریسکیٹور کے نام سے ہوئی ہے۔ جیمز فریسکیٹور پر ماضی میں بھی شہریوں کے ساتھ بداخلاقی کے الزامات لگ چکے ہیں۔

نیو یارک پولیس کے کمشنر ولیم بریٹھن کے مطابق بلیک مشتبہ ملزم کے ’جڑواں‘ لگ رہے تھے۔ انھوں نے واقعہ کے بعد بلیک سے معافی مانگ ہے۔

جیمز بلیک نے الزام لگایا ہے کہ بدھ کو جب اہلکار نے انھیں زمین پر گرایا تو اس نے طاقت کا نامناسب استعمال کیا۔

نیویارک ریڈیو اسٹیشن کے مطابق فریسکیٹور جو کہ مقدمے کی تحقیقات تک ڈیسک ڈیوٹی پر ہیں، ماضی میں ان کے خلاف شہریوں کی پانچ شکایات آچکی ہیں جس میں طاقت کا بے جا استعمال بھی شامل ہے۔

نیویارک میں پولیس کمشنر ولیم بریٹھن کا کہنا تھا کہ ’اس کی ذاتی ذندگی میں سے چند معلومات میڈیا پر آچکی ہیں۔ ہماری تحقیقات ان کے ماضی پر انحصار کریں گی۔‘

Image caption جس طرح کا حادثہ میرا ساتھ پیش آیا ہے یہ اکثر ہوتے رہتے ہیں: سابق ٹینس کھلاڑی

بلیک جو خود ایک مخلوط نسل سے تعلق رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں نسلی محرکات بھی شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ تمام اہلکار گورے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ میرا بنیادی تعلق طاقت کے بے جا استعمال پر ہے اور اس کے لیے معافی کافی نہیں ہے۔

جمعے کو اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ ’میں اس بارے میں پرعزم ہوں کہ اپنی آواز سے اس بدقسمت حادثے کو سہولت کاری میں بدل دو تاکہ پولیس اور عوام جن کی خدمت یہ کرتے ہیں ان کے درمیان تعلق تبدیل ہو سکے۔‘

’جس طرح کا حادثہ میرا ساتھ پیش آیا ہے یہ اکثر ہوتے رہتے ہیں۔‘

حال ہی میں محکمے کو کوئی ہائی پروفائل مقدمات کا سامنا ہے جس میں پولیس پر مظالم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اہلکاروں کے خلاف مجرمانہ کارروائی نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف شہر بھر میں بہت احتجاج کیے گئے۔

اسی بارے میں