روس کے علاقائی انتخابات میں ووٹنگ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption روس کے ان علاقائی انتخابات میں تقریبا چھ کروڑ افراد یعنی آبادی کا نصف حصہ ووٹ ڈالنے کا اہل ہے

روس میں آج علاقائی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جس سے آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کے رجحانات کا اندازہ ہو سکتا ہے۔

تقریبا چھ کروڑ افراد یعنی آبادی کا نصف حصہ ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا اہل ہے۔

واضح رہے کہ یہ ووٹ علاقائی پارلیمان اور گورنروں کو منتخب کرنے کے لیے ڈالے جا رہے ہیں۔

تاہم ان انتخابات میں اہم حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک اتحاد کو صرف ایک علاقے کوسٹروما سے انتخابات لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔

حزب اختلاف کے اس اتحاد میں قتل ہونے والے رہنما بورس نیمتسوو اور احتجاجی رہنما ایلیکسی ناولنی کی پارٹیاں شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ان انتخابات سے آئندہ سال ہونے والے انتخابات کے رجحان کا پتہ چل سکتا ہے

ناولنی بذات خود انتخابات نہیں لڑ سکتے ہیں کیونکہ وہ غبن کے ایک مقدمے میں قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ ان کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں۔

صدر ولادیمیر پوتن کے تحت ڈیوما کا حزبِ اختلاف کا اصلی کردار ختم ہو چکا ہے جبکہ پوتن کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ان انتخابات کی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ ایک سال کی معاشی مشکلات کے بعد ان انتخابات سے روسی عوام کے موڈ کا پتہ چلے گا۔

خیال رہے کہ یہ معاشی مشکلات تیل کی کم قیمت اور یوکرین میں روس کے کردار پر مغربی ممالک کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کا نتیجہ تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption احتجاجی رہنما ایلیکسی ناولنی نے ان انتخابات میں دھاندھلیوں کا امکان ظاہر کیا ہے

روس میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار سارہ رینسفورڈ کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک اتحاد کے لیے انتخابی مہم بہت آسان نہیں تھی کیونکہ انھیں سرکاری میڈیا میں انتہائی کم جگہ ملی تھی اور ان پر امریکہ کے لیے کام کرنے کے الزامات تھے۔

حزبِ اختلاف کے اتحاد کے امیدواروں کو کلوگا، مگادن اور نوووسیبرسک جیسے علاقوں میں مقننہ کی بحث میں حصہ نہیں لینے دیا گیا۔

حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ حکام نے سیاسی وجوہات کے تحت تکنیکی چیزوں کا بہانہ بنا کر انھیں ان علاقوں سے لڑنے سے باز رکھنے کے لیے ایسا کیا۔

سنیچر کو ناولنی نے روسی زبان میں فیس بک پر ماسکو کے شمال مشرقی علاقے کوستروما کے بارے میں پوسٹ کیا کہ وہاں حزب اختلاف کے ممبروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ انھوں نے اتوار کو ہونے والے انتخابات کے بارے میں ’زبردست دھاندھلیوں‘ کا الزام لگایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بورس نیمتسوو کو کریملن کے پاس اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ چہل قدمی کر رہے تھے

روس کی اہم حزب اختلاف نے اپریل میں مسٹر نیمتسوو کے قتل کے تقریبا دو ماہ بعد اتحاد قائم کیا۔ خیال رہے کہ انھیں اس وقت گولی مار دی گئی تھی جب وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ کریملن کے پاس چہل قدمی کر رہے تھے۔

نیمتسوو کی پارٹی پارنس کا کہنا ہے کہ علاقائی انتخابات سنہ 2016 میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے سرپنگ بورڈ ثابت ہوں گے۔

اسی بارے میں