بل فائٹنگ: ایڈونچر یا بےرحمی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Alvaro Barrientos l AP
Image caption اس مقابلے میں پروفیشنل بل فائٹر نہیں بلکہ عام لوگ حصہ لیتے ہیں

جب 15 ستمبر کو سپین کے قدیم شہر توردیسیلیاس میں درجنوں نوجوان ہاتھوں میں چمکتے ہوئے بھالے پکڑ کر ایک 640 کلوگرام وزنی بیل سے لڑیں گے تو دیکھنے والوں کو یہ مغالطہ ہو سکتا ہے کہ یہ سنہ 2015 نہیں بلکہ 1520 ہے۔

خود سپین میں، جہاں عوامی میلوں میں انسان بمقابلہ جانور کوئی انوکھی بات نہیں، تورو دے لا ویگا کا یہ میلہ کسی حد تک غیرمہذب سا لگتا ہے۔

ہفتے کے روز میڈرڈ کے سول چوک میں دسیوں ہزار لوگوں نے مظاہرہ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اس میلے پر پابندی لگا دی جائے۔

تورو دے لا ویگا میلہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں کوئی پروفیشنل بل فائٹر کسی بیل سے بل فائٹنگ ایرینا میں نہیں لڑتا، بلکہ ایک بیل قصبے کی گلیوں میں دوڑایا جاتا ہے اور منچلے اس کے آگے آگے بھاگتے ہیں۔

اس مقابلے کا فاتح وہ شخص قرار دیا جاتا ہے جس نے بیل کو سب سے کاری اور جان لیوا زخم لگایا ہو۔

اس 500 سالہ قدیم روایت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ انسان اور بیل کے درمیان خالص جنگ کا نمونہ ہے، اور اس میں جانور کو زخمی کرنے کے سخت اصول ہیں جن کے تحت اسے اطراف سے زخم نہیں لگایا جا سکتا، اور نہ متعدد افراد مل کر اس پر حملہ کر سکتے ہیں، بلکہ حملہ ایک ایک کر کے کیا جاتا ہے۔

لیکن حالیہ برسوں میں توردیسیلیاس میں ہونے والے اس میلے کو جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ گذشتہ ستمبر میں تو جانبین میں ہاتھاپائی تک نوبت پہنچ گئی اور لوگ بیل کے سینگوں کی بجائے ایک دوسرے کے ہاتھوں اور پیروں سے زخمی ہو گئے۔

گذشتہ سال کے فاتح الوارو مارتین کہتے ہیں کہ انھیں سوشیل میڈیا پر دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ اس ہفتے ہونے والے میلے کے دوران 30 ہزار مداحوں اور سینکڑوں کارکنوں میں ہونے والے ممکنہ تصادم کے پیشِ نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

سپین میں جانوروں کے حقوق کی سب سے بڑی تنظیم پیکما اس میلے کو ختم کروانا چاہتی ہے۔ تنظیم کی صدر سلویا بارکیورو کہتی ہیں: ’یہ اس ملک میں جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی علامت ہے۔ اس سے جو تاثر برآمد ہوتا ہے، اس کا تعلق قرونِ وسطیٰ سے ہے، نہ کہ سپین کے موجودہ معاشرے سے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Alvaro Barrientos l AP
Image caption اس مقابلے میں پروفیشنل بل فائٹر نہیں بلکہ عام لوگ حصہ لیتے ہیں

اور تو اور، بیلوں کے مشہور نسل کش گویرمو لوپیس اولیا بھی اس میلے کے لیے کچھ زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔

جب انھیں پتہ چلا کہ ان کے پالے ہوئے ایک بیل کو توردیسیلیاس کی کونسل نے اس سال کے میلے میں دوڑانے کے لیے چھ ہزار یورو میں خرید لیا ہے تو انھوں نے کہا: ’کچھ ایسی چیزیں ہیں جنھیں میں پسند کرتا ہوں، کچھ ایسی چیزیں ہیں جنھیں میں پسند نہیں کرتا۔ ہر کسی کو اپنی رائے کے اظہار کی آزادی ہے لیکن میرا کام صرف بیل بیچنا ہے۔‘

اسی بارے میں