تارکینِ وطن کا بحران: آسٹریا کا فوج تعینات کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یورپی ممالک مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک سے آنے والے ہزاروں تارکین وطن کی وجہ سے بحران کا شکار ہیں

آسٹریا کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے وہ فوج تعینات کرے گا اور ہنگری سے منسلک اپنی سرحد پر بارڈر کنٹرول کو سخت کرے گا۔

آسٹریا نے یہ فیصلہ جرمنی کا جانب سے بارڈر کنٹرول متعارف کرانے کے بعد کیا ہے۔

یورپی ممالک بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کی آمد کے جاری سلسلے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ تارکینِ وطن کی اکثریت جرمنی جانے کی خواہاں ہے اور ایک اندازے کے مطابق رواں برس دس لاکھ تارکینِ وطن جرمنی پہنچیں گے۔

دوسری جانب یورپی ممالک کے وزرائے داخلہ کا تارکینِ وطن کے بحران کے مسئلے پر بات چیت کے لیے پیر کو ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں مختلف یورپی ممالک کے لیے تارکینِ وطن کے کوٹے کے منصوبے پر ووٹنگ بھی کی جائے گی۔

اس منصوبے کے تحت 160,000 پناہ گزینوں کو یورپی یونین کے 23 ممالک میں تقسیم کیا جائے گا لیکن کچھ یورپی ممالک نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔

خیال رہے کہ یورپی ممالک مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک سے آنے والے ہزاروں تارکین وطن کی وجہ سے بحران کا شکار ہیں اور آسٹریا، جرمنی، اور چیک ریپبلک سبھی اس ہفتے کے آخر سے سخت سرحدی قانون نافذ کرنے جا رہے ہیں۔

یونان کے راستے بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کا یورپ آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔ پناہ گزین یونان اور ہنگری جیسے ممالک میں رجسٹر ہونے سے انکار کر رہے ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ اگر وہ ان ممالک میں رجسٹر ہو گئے تو ان کو جرمنی میں پناہ نہیں ملے گی۔

اسی بارے میں