’پاکستان کے ڈرون حملے کی درستگی سےمغربی ماہرین حیرت زدہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم سے منسلک ریاد خان اور روح الامین شام میں برطانوی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے

ڈرون حملے اکثر متنازعہ خیال کئے جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی خیال ہے کہ ڈرون حملہ کرنے والا ملک کسی بھی جنگ میں براہ راست ملوث نہیں ہوتا اور اس کا عملہ کسی بھی نقصان سے محفوط رہتا ہے۔ ڈرون پر ایک طرف جنگ کے دوران حدود کی خیال نہ رکھنے کا الزام ہے تو دوسری طرف ان کو انسداد دہشت گردی اور امن و امان کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔

یہ بات کسی حیرت سے کم نہیں جب برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ برطانوی شہری جو مبینہ طور پر نام نہاد دولت اسلامیہ کا رکن تھا ملک کی رائل ایئر فورس کے ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا ہے۔ برطانیہ کے جنگی جہاز اور ڈرون عام طور پر شام میں حملے نہیں کرتے کیونکہ برطانیہ وہاں جنگ میں ملوث نہیں ہے۔ لیکن ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والا شخص برطانوی شہری تھا۔

سزائے موت کےخلاف احتجاج کرنے والے گروپ اور سماجی تنظیموں نے اس واقعے کے بعد فوراً خبردا ر کیا کہ ڈیوڈ کیمرون کی حکومت بھی امریکہ والا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے، جس کے تحت ڈرون انسداد دہشت گردی کے لئے اولین ترجیح ہے۔ برطانوی حکومت کا اصرار ہےکہ مذ کورہ شخص برطانیہ پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کررہا تھا اور اس کو روکنے کے لئے ڈرون سے موزوں کوئی راستہ نہیں تھا۔

اس واقعے کے بعد مسلح ڈرون جن کو بے نام ہوائی سواری (یو اے ویز) بھی کہا جاتاہے اپنی غیر معمولی افادیت ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن اس کے وسیع استعمال کے ساتھ بہت سی قانونی اور اخلاقی خلاف ورزیاں بھی ہیں جو ابھی تک جواب طلب ہیں۔

درست حملے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی فضائیہ کا ایم کیو– 9 ریپر تیز رفتاری کے ساتھ درمیانی سے نیچی پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے

ابھی تک دنیا کے چند ممالک کے پاس ہی ڈرون کو اس طرح استعمال کرنے کی ٹیکنالوجی اور جاسوسی مہارت تھی۔ امریکا اور اسرائیل ممکنہ طور پر اس ٹیکنالوجی میں سب سے آگے تھے اور ان کے کچھ دوست ممالک ان کی اس ٹیکنالوجی کو چلانےمیں مدد کررہے تھے۔

لیکن اب مسلح ڈرون کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔ اس ماہ کے شروع میں پاکستان نے براق نامی ایک مسلح جاسوس طیارہ شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں ایک نشانے پر حملہ کرنے کے لئے استعمال کیا۔ جس نفاست اور درستگی کے ساتھ یہ حملہ کیا گیا اس نے مغربی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے، اور خیال کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو مہیا کی جانے والی اس ٹیکنالوجی کے پیچھے چین کا ہاتھ ہے۔

شروع میں محض جارحانہ طور پر ڈرون حملوں کا استعمال کرنے والے ممالک بہت کم تھے۔ لیکن اب ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چین اور ایران کے بارے میں بھی خیال ہے کہ وہ اپنے مسلح ڈرون تیار کرچکے ہیں جبکہ بہت سے دوسرے ممالک نے اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ حتیٰ کہ حزب اللہ جیسی مسلح تنظیم نے بھی 2006 میں اسرئیل کے ساتھ جنگ میں ڈرون کا استعمال کیا تھا۔

جون میں امریکی تھنک ٹینک نیو امیریکن سیکیورٹی کے جائزے کے مطابق دنیا کے تقریبا 90 ممالک کے پاس کسی نہ کسی قسم کی ڈرون ٹیکنالوجی ہے جن میں سے 30 ممالک ایسے ہیں جو اپنے آپ کو مسلح کرنےکی خاطر یہ ٹیکنالوجی حاصل کرچکے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں۔

سب ایک ہی ساخت ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کچھ ماہرین ڈرون کے حق میں ہیں جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ ڈرون ایک جانبدار فائدہ ہے

ڈرون کے زیادہ ترحملوں کے طریقہ کار میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ کیونکہ اسے استعمال کرنے والے ممالک یا تو اس ٹیکنالوجی کو ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں اور یا پھر اس کی براہ راست نقل کرتے ہیں۔

امریکی فضائیہ کا ایم کیو9 ریپر جو تیز رفتاری کے ساتھ درمیانی سے نیچی پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے اپنی پرانی ساخت کے ایم کیو1 پریڈیٹر سے رفتار اور پرواز دونوں میں بہتر ہے۔ 9ریپر برطانیہ کی فضائیہ بھی استعمال کررہی ہے۔ ایلبٹ کمپنی کا تیار کردہ درمیانی اونچائی پر دیر تک پرواز کرنے والا اسرئیلی ڈرون ہرمس 900 پہلی مرتبہ غزہ میں آپریشن پروٹیکٹو ایج میں استعمال کیا گیا تھا۔

چین کے چینگ ڈو ایئر کرافٹ ڈیزائن اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بنائے جانے والے ونگ لونگ کی تیاری 2005 میں شروع کی گئی لیکن بہت سے ماہرین کا خیال ہےکہ وہ بنیادی طور امریکا کے ایم کیو 1 بریڈیٹر سے مشابہ ہے۔

کچھ ماہرین ڈرون کے حق میں ہیں جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ ڈرون ایک جانبدار فائدہ ہے۔ کیونکہ حملہ کرنے والے ملک کی فوج کسی بھی نقصان سے محفوظ رہتی ہے جو جنگ کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

یہ سوچنا بھی کسی بے وقوفی سے کم نہیں ہوگا کہ جنگ، جو خود ایک ناپسندیدہ عمل ہے، کسی بھی طرح سے 'منصفانہ' ہوسکتا ہے۔ اپنی افواج اور وسائل کی حفاظت اور دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہی جنگ کا اولین مقصد رہا ہے۔ لیکن پھر بھی مسلح ڈرون دنیا میں ہتھیاروں کے عدم استحکام میں نمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MOD
Image caption کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ مسلح ڈرونز کی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اس کی فروخت پر ایک معاہدے کی شکل میں واضح بین الاقوامی مفاہمت ہونی چاہئے

ڈرون کا گھنٹوں ایک علاقے کا گشت کرنے کے بعد نشانے کو تلاش کرنا اورپھر حد درجہ درستگی کے ساتھ فوری حملہ کرنے کی صلاحیت سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ یہ وہ ہتھیار ہیں جن کے متواتر استعمال کی اجازت ہونی چاہئے۔ یہ حقیقت کہ ڈرون استعمال کرنے والے ممالک کی افواج کو نقصان کا کم خطرہ ہوتا ہے اور یہ کہ ان کو چھوٹے پیمانے اور خفیہ طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ان کو ایک پرکشش انتخاب بناتاہے۔

جون 2014 میں خارجہ تعلقات کی کونسل نے تجویز کیا تھا کہ ڈرون کو ہتھیاروں کے ایک منفرد زمرے میں رکھا جائے۔کونسل نے اعتراض کیا کہ ڈرون کے پھیلاؤ پر قابو پایا جائے اور امریکا جو ڈرون کو سب سے ذیادہ استعمال کررہا ہے اس کے اخلاقی ضابطے وضع کرے۔ امریکا کے ناقدین کا خیال ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکا نے جس تواتر کے ساتھ ڈرون کا استعمال کیا ہے اس نے پہلے ہی بہت عدم استحکام پیدا کردیا ہے۔

جنگ یا انسداد دہشت گردی

یہ واضح ہے کہ ڈرون صرف جنگی ہتھیار نہیں ہے۔ امریکا نے اکثر بہت سے ایسے ممالک میں سیکڑوں ڈرون حملے کئے ہیں جہاں پر وہ براہ راست جنگ میں ملوث نہیں ہے۔ اس طرح کی ڈرون حملوں کی افادیت پر اکثر سوال کیا جاتاہے کہ کیا واقعی ان حملوں سے نشانہ بنائے جانے والے دہشت گروپ ختم ہوگئے ہیں یا پھر کتنے معصوم شہری اس عمل میں ہلاک ہوگئے ہیں؟

ڈرون نے جنگ اور انسداد دہشت گردی کےفرق کو دھندلا کر دیا ہے۔ اور اسی لئے ڈرون حملوں پر تنقید کرنے والے اکثر اس کو 'ماورائے عدالت قتل' سے بھی تشبیہ دیتے ہیں۔ یقینًا حکومتیں ان ڈرون حملوں کے جائز ہونے پر اصرار کرتی ہیں، جیسا کہ برطانوی حکومت نے شام پر کیے جانے والے ڈرون حملے کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق بالکل جائز قرار دیا۔

سیکیورٹی کے مسائل سول ڈرون ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے تحت کوئی بھی انتہائی جدید، گوکہ غیر مسلح ڈرون خرید سکتا ہے ۔ لیکن اس کے بارے میں خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ کوئی دہشت گرد گروہ بھی ان کو خرید کر مسلح کرسکتا ہے اور حملوں کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔

مسلح ڈرونز کے استعمال سے پیدا ہونے والے جنگی، قانونی اور اخلاقی مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ اور جیسے جیسے زیادہ سے زیادہ ممالک اسے استعمال کرتے جایئں گے یہ مسائل مزید برھتے جائیں گے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ مسلح ڈرونز کی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اس کی فروخت پر ایک معاہدے کی شکل میں واضح بین الاقوامی مفاہمت ہونی چاہئے، جو اس منفرد قسم کے ہتھیار کے استعمال کی حد مقرر کرے۔