ہنگری میں تارکینِ وطن سے متعلق سخت قوانین کا نفاذ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہنگری نے سربیا کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگانے کا کام مکمل کر لیا ہے اور اس ریلوے لائن کو بند کر دیا ہے جسے تارکینِ وطن آر پار جانے کے لیے استعمال کر رہے تھے

ہنگری نے تارکین وطن کے لیے سخت قانون بنائے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اس سے ایک ’نئے عہد کا آغاز‘ ہو گا اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد میں کمی ہو گی۔

اس نئے قانون کے تحت پولیس سربیا کے ساتھ ہنگری کی سرحد پر لگائے جانے والی خاردار تار کو غیر قانونی طور پر عبور کرنے والے کسی بھی شخص کو گرفتار کر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک سے ترک وطن کرکے آنے والے اور شمالی یورپ کی جانب جانے والے ہزاروں تارکین وطن کے لیے ہنگری ایک اہم راستہ رہا ہے۔

نئے قوانین کا نفاذ پیر کی شب کو کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پیر کو یورپی یونین کے وزرا تفویض شدہ کوٹے کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد تارکینِ وطن کی آباد کاری کے لیے ایک مشترکہ منصوبے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

یورپی یونین کے اکثر وزرائے داخلہ نے برسلز میں ہنگامی مذاکرات میں پناہ کی تلاش میں آنے والوں کے لیے ایک منصوبہ مرتب کرنے کے لیے بنیادی اصولوں پر اتفاق کیا تاہم مزید مذاکرات آئندہ ماہ کیے جائیں گے۔

ادھر تارکینِ وطن کی بڑی تعداد سے نمٹنے کے لیے آسٹریا، سلوواکیا اور نیدرلینڈز نے بھی اپنی سرحدوں پر پابندیوں کو سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یورپ کے شمالی حصے میں سرحدوں پر نگرانی سخت کرنے سے یورپی باشندوں کے آزادانہ طور پر ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کے معاہدے کو چیلنج درپیش ہوگئے ہیں

ان ممالک کی طرف سے یہ فیصلہ، جرمنی کے اس اعلان کے کچھ گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جرمنی آسٹریا کے ساتھ اپنی سرحد پر نگرانی کا عمل بڑھا رہا ہے۔

ہنگری نے بھی سربیا کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگانے کا کام مکمل کر لیا ہے اور اس ریلوے لائن کو بند کر دیا ہے جسے تارکینِ وطن آر پار جانے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

ہنگری کی جانب سے نئے اقدامات کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن اور سرحد پر موجود باڑ کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

ہنگری کے وزیرِ اعظم نے ’ٹی وی ٹو‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ ’کیے جانے کا امکان ہے۔‘

لکسمبرگ میں یورپی یونین کے صدر دفتر سے جاری بیان میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے تارکینِ وطن کی آباد کاری کے لیے یورپی کمیشن کے چیف کی جانب سے دی جانے والی تجاویز آٹھ اکتوبر کے اجلاس میں قانون کی شکل اختیار کر لیں گی۔

سلوواکیا کے وزیرِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کوٹا سسٹم مسئلے کا حل نہیں ہے۔

لکسمبرگ کے وزیرِ خارجہ جین ایزل بورن نے کہا کہ ’اس وقت تمام لوگ آن بورڈ نہیں ہیں۔‘

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ یورپ میں صورت حال بہت ہنگامہ خیز اور ڈرامائی ہے اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہنگری کی جانب سے نئے اقدامات کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن اور سرحد پر موجود باڑ کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والوں کو گرفتار کر لیا جائے گا

یورپی کمیشن کی جانب سے موسم سرما سے قبل تارکینِ وطن کی آباد کاری کی تجویز دی گئی تھی جبکہ وزرا نے یونان سے اٹلی اور دیگر یورپی ممالک میں 40 ہزار تارکینِ وطن کی منتقلی اور آباد کاری پر رضامندی دی ہے۔

اگرچہ یہ اقدامات ہنگامی صورتِ حال میں کیے گئے ہیں اورعارضی نوعیت کے ہیں تاہم یورپ کے شمالی حصے میں سرحدوں پر نگرانی سخت کرنے سے یورپی باشندوں کے آزادانہ طور پر ایک دوسرے کے ملک میں آنے جانے کے معاہدے کو چیلنج درپیش ہوگئے ہیں۔

یورپی ممالک تارکینِ وطن کے بہت زیادہ تعداد میں آنے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کا بمشکل مقابلہ کر پا رہے ہیں جبکہ زیادہ تر تارکینِ وطن جرمنی جانا چاہتے ہیں۔

آسٹریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کو ہنگری سے سات ہزار تک تارکینِ وطن پہنچے ہیں جبکہ اتوار کو یہ تعداد 14 ہزار تھی۔

آسٹریا کے چانسلر کا کہنا تھا کہ مختلف مقامات پر فوج لگائی جا رہی ہے جس کا بنیادی مقصد تارکینِ وطن کو انسانی امداد بہم پہنچانا ہے۔ لیکن ضروری ہوا تو فوج کو سرحدوں پر بھی بھیجا جائے گا۔