سیسل کی ہلاکت میں ملوث شکاری پر ہرن سمگل کرنے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption برونک ہورسٹ کو بدھ کو سمگلنک کے الزامات کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے گا

سیسل نامی شیر کی ہلاکت پر الزامات کا سامنا کرنے والے زمبابوے کے پیشہ ور شکاری کو افریقی نسل کے ہرن سمگل کرنے کی مبینہ کوشش پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

شکاری تِھیو برونک ہارسٹ کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب یہ پتہ چلا کہ 29 ہرن جنوبی افریقہ سمگل کیے جا رہے ہیں۔

’ہمیں سیسل کا سر واپس چاہیے‘

پولیس کے مطابق وہ جنوبی شہر بلاوایو میں زیرِ حراست ہیں۔

مسٹر برونک ہورسٹ ایک دوسرے معاملے میں ضمانت پر ہیں جس میں وہ جولائی کے مہینے میں مبینہ طور پر غیر قانونی شکار کر رہے تھے۔

اس دوران دانتوں کے ایک امریکی ڈاکٹر والٹر پامر نے سِیسل نامی شیر کو شکار کرتے ہوئے ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعہ پر عالمی سطح پر ردِ عمل کا اظہار کیا گیا تھا اور احتجاج اتنا شدید تھا کہ امریکی ڈاکٹر کو روپوش ہونا پڑا تھا۔ شیر کی ہلاکت کے بعد سے وہ اس مہینے کے شروع میں پہلی بار کام پر واپس آئے ہیں۔

زمبابوے میں ماحولیات کا تحفظ کرنے والوں کے مطابق سِیسل کو جو سیاحوں کو بہت زیادہ پسند تھا، چارہ دکھا کر نیشنل پارک سے باہر نکالا گیا تھا جس کے بعد اسےگولی مار دی گئی تھی۔

برونک ہورسٹ کو بدھ کو سمگلنک کے الزامات کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

جنوبی افریقہ کےرہائشی تین افراد کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب ان کی گاڑی دریا میں پھنس گئی۔ اس گاڑی کے ذریعے افریقی ہرن کہیں لے جائے جا رہے تھے۔

اسی بارے میں