میانمار کے شب و روز تصاویر میں

تصویر کے کاپی رائٹ Geoffrey Hiller
Image caption برما کے مسافر کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے

فوٹوگرافر جیفری ہیلر میانمار یعنی برما کے لوگوں کی زندگی کو سنہ 1987 سے دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Geoffrey Hiller
Image caption ایک چائے کی دکان کی تصویر سنہ 2013 میں لی گئي ہے

میانمار پر ان کی تازہ کتاب ’ڈے بریک ان میانمار‘ یعنی میانمار میں طلوع صبح سے چند تصاویر پیش کی جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Geoffrey Hiller
Image caption نویتیاتے مونک، بگان، 1987

اس کتاب میں برما کی چند نمایاں شخصیتوں کے ساتھ انٹرویوز بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Geoffrey Hiller
Image caption پاتھین برما کی رہنما آنگ سانگ سوچی کی ریلی، سنہ 2012

انھوں نے فوجی حکومت کے خاتمے اور سنہ 2010 میں فوجی حمایت میں بننے والی حکومت تک وہاں کا کئی بار دورہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Geoffrey Hiller
Image caption ہپان کے مدرسے کی تصویر سنہ 2012 میں لی گئی تھی

ان کی تصاویر میں برما کے باشندوں کی روزمرہ کی زندگی کی عکاسی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Geoffrey Hiller
Image caption ہپان کے ایک پک اپ ٹرک میں سفر کرنے والے راہبوں کی یہ تصویر سنہ 2012 میں لی گئی

انھوں نے سر راہ یا چائے پیتے ہوئے تصویریں لی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Geoffrey Hiller
Image caption دالا میں ایک مسافر بردار ٹرک کی تصویر سنہ 2011 میں لی گئي

انھوں نے پہلی بار سنہ 1987 میں ایک ہفتے کے ویزا پر میانمار کا دورہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Geoffrey Hiller
Image caption یہ تصویر رنگون کے سنٹرل سٹیشن پر سنہ 2000 میں لی گئی

سفری پابندیوں کے باوجود انھیں اس ملک سے محبت ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Geoffrey Hiller
Image caption میئک ٹیلا کے ایک بیوٹی سیلون میں ایک دلہن اور ایک گریجویٹ

وقت کے ساتھ ہر سال فوجی حکومت میں نرمی آتی گئی لیکن سنہ 2000 میں انھیں عام طور پر اپنے کیمرے کو چھپانا پڑتا تھا اور سادی وردی میں موجود سرکاری ایجنٹس انھیں روکتے تھے۔ اس کے باوجود وہ وہاں سے فلم کے 90 رولز باہر لے جانے میں کامیاب رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Geoffrey Hiller
Image caption رنگون میں ٹیکسی

امریکی سفارتخانے کی جانب سے ملازمت کے دوران انھوں نے سنہ 2011 میں ینگون (رنگون) میں فوٹوگرافی کی تعلیم دی اور اس کے ایک سال بعد اپنے شاگردوں سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Geoffrey Hiller
Image caption ہیپان کا بودھ مندر

ان میں سے بعض اب بین الاقوامی اور قومی میڈیا کے لیے کام کر رہے ہیں اور حکام کی جانب سے مزید نرمی کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر بھی اپنی تصویریں پوسٹ کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Geoffrey Hiller
Image caption رنگون کے قدیمی شہر کی تصویر سنہ 2012 میں لی گئی

ان سب تبدیلیوں کے باوجود ہیلر کا خیال ہے کہ میانمار کا مستقبل ابھی غیر یقینی ہے اور اس کا بہت حد تک دارومدار 25 سال میں پہلی بار ہونے والے عام انتخابات پر ہوگا۔

اسی بارے میں