عالمی اپیلوں کے باوجود مسجد الاقصیٰ میں جھڑپیں جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عالمی برادری کی جانب سے صبر و تحمل کی درخواست کے باوجود مشرقی یروشلم میں مسجد الاقصیٰ کے احاطے اور اس کے اطراف میں تیسرے روز بھی اسرائیلی پولیس اور فلسطینی نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

اتوار کو یہ جھڑپیں یہودیوں کے نئے سال’روش ہاشونا‘ شروع ہونے سے پہلے شروع ہوئی تھیں۔

پولیس نے کہا تھا کہ ہنگاموں کو روکنے کے لیے وہ مسجد الاقصیٰ میں داخل ہوئے۔

بیت المقدس میں تیزی سے کشیدہ ہوتی صورتحال

مقدس مقام کو بند کرنا’ اعلان جنگ‘ ہے: عباس

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے فلسطینی ہلال احمر کے ڈائریکٹر امین ابو غزالی کے حوالے سے بتایا ہے کہ منگل کو جھڑپوں میں 26 فلسطینی زخمی ہوئے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بن یامن نتن یاہو اس مسئلے پر ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔

اسرائیلی پولیس کی ترجمان لوبا سامری نے کہا ہے کہ پانچ اسرائیلی پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں جبکہ دو فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق قدیم شہر کے دیگر علاقوں میں بھی فلسطینی مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق مسجد الاقصیٰ کے ارد گرد جمع فلسطینی نوجوان مسجد کے اندر داخل ہونے والے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کر رہے ہیں جبکہ پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور سٹن گرینیڈز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد کے داخلی راستے سے ملبہ ہٹا دیا گیا ہے جبکہ مسجد کے اندر سے سکیورٹی فورسز پر پتھر، آتشیں مواد اور دیگر اشیا پھینکنے والوں کے لیے دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔

مسجد الاقصیٰ کا انتظام سنبھالنے والی اردن کی تنظیم’وقف‘ کا کہنا ہے کہ پولیس کے مسجد کے بہت اندر تک آنے کی وجہ سے مسجد کو نقصان پہنچا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں فلسطینی نوجوان یہودیوں کو روکنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مسجد میں بہت آگے تک آنے کی وجہ سے مسجد کو نقصان پہنچا ہے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے مسجد اقصیٰ میں ہونے والی جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ ہمسایہ ملک اردن کے بادشاہ عبداللہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں اشتعال کا باعث ہیں اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

شاہ عبداللہ کے ترجمان کے مطابق ’اگر ایسا جاری رہتا ہے تو اردن کے پاس کارروائی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔‘

بیان کے مطابق شاہ عبداللہ اور فلطسینی صدر محمود عباس کے درمیان ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے جس میں صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

فلسطینی مظاہرین کو خدشہ ہے کہ اسرائیل ان قوانین کو تبدیل کرنا چاہتا ہے جن کے تحت یہودیوں کو مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت تو ہے لیکن وہ عبادت نہیں کر سکتے۔ ان خدشات پر اسرائیلی وزیراعظم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مسجد کے موجودہ قواعد و ضوابط کو برقرار رکھا جائے گا۔

دوسری جانب یورپی یونین نے منگل کو مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں میں اشتعال انگیزی پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین صبر و تحل کا مظاہرہ کریں اور مقدس مقامات کا احترام کریں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یورپی یونین کی ترجمان مایا کوچجینک نے برسلز میں صحافیوں سے بات کرتے کہا کہ ’28 ممالک پر مشتمل یورپی اتحاد نے حال ہی میں ایک اپیل جاری کی ہے کہ مقدس مقامات کا پورا احترام کیا جائے اور یہ بہت واضح ہے کہ موجودہ صورت حال میں کسی قسم کی تبدیلی سے عدم استحکام کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔‘

اسی بارے میں