’غیر ملکی دباؤ میں اقتدار نہیں چھوڑوں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر مغربی ممالک پناہ گزینوں کے بحران سے پریشان ہیں تو انھیں دہشت گردوں کی امداد ختم کر دینی چاہیے

شام کے صدر بشار الاسد نے روسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اقتدار سے ہٹانے کا فیصلہ شامی عوام کو کرنا ہو گا اور وہ غیر ملکی دباؤ میں اقتدار سے علیحدہ نہیں ہوں گے۔

مغربی ممالک اور شامی حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد کے شام میں بشار الاسد کی اقتدار پر موجودگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

بشار الاسد نے روسی صحافیوں کے ساتھ انٹرویو میں تسلیم کیا کہ ایران شام کی سیاسی، معاشی اور فوجی امداد کر رہا ہے۔ البتہ شامی صدر نے ایرانی فوجیوں کی شامی سرزمین پر موجودگی کی تردید کی۔

شامی صدر کا انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس شام میں اپنی فوجی موجودگی کو وسیع کر رہا ہے۔

صدر بشار الاسد نے کہا کہ شام میں صدر انتخابات کے ذریعے لوگوں کی حمایت سے اقتدار میں آتا ہے اور اقتدار سے علیحدہ بھی عوامی مطالبے ہی پر ہوتا ہے۔

2014 میں شام میں ہونے والے انتخابات میں بشار الاسد نے 88 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ شام میں صدارتی انتخابات صرف حکومتی کنٹرول والوں علاقوں میں منعقد ہوئے تھے۔ شامی اپوزیشن کا موقف ہے کہ خانہ جنگی کے دوران ہونے والے ان انتخابات کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔

یورپ میں شامی پناہ گزینوں کے بحران کے بارے میں بات کرتے ہوئے بشار الاسد نے کہا کہ یہ سب دہشت گردی کا شاخسانہ ہے۔

بی بی سی کی سبیسٹیئن اوشر نے کہا ہے کہ بشار الاسد نے ملک میں بحران کے آغاز سے ہی یہ موقف اپنا رکھا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں، لیکن جو چیز تبدیل ہوئی ہے وہ ہے اس بیان کا وقت اور وہ حالات جن میں یہ سامنے آیا ہے۔

یورپ میں پناہ گزینوں کا بحران سامنے آنے کے بعد سے وہ کہہ رہے ہیں کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے طاقتور ہونے سے پناہ گزینوں کا بحران سامنے آیا ہے اور پناہ گزینوں کا بحران ان کے موقف کی تائید کرتا ہے۔

پیر کے روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب سرگے لاوروف سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ امریکی وزیر خارجہ نے روسی وزیر خارجہ سے شام میں روسی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے حوالے سے وضاحتیں مانگیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق جان کیری نے خبردار کیا ہے کہ بشار الاسد کی مسلسل حمایت سے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

روس کا موقف ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے نمٹنے کے لیے شام کی فوجی امداد کر رہا ہے۔ روس نے شام میں اپنی موجودگی کو ایک ایسے وقت میں بڑھایا ہے جب صدر بشار الاسد کی اقتدار پر گرفت کمزور پڑ رہی ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے صدر بشار کی فوجی امداد کا اعلان کرتے ہوئے دوسرے ملکوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ شامی حکومت کی امداد میں روس کا ساتھ دیں۔

امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے سوموار کے روز کہا تھا کہ شام کے شمال مغربی شہر لاذقیہ میں لوگوں اور فوجی آلات کی مسلسل آمد اس بات کا اشارہ ہے کہ روس وہاں فوجی اڈا بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے واشنگٹن میں حکام کے حوالے سے خبر دی تھی کہ روس نے مزید جنگی طیارے اور ٹینک شام روانہ کیے ہیں۔

اسی بارے میں