تارکین وطن کی ہنگری میں داخل ہونے کی کوشش پر جھڑپیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سربیا کی حدود میں آنسو گیس سے متاثرہ تارکین وطن کو طبی امداد فراہم کی گئی

ہنگری میں پولیس نے سربیا سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کو واپس پیچھے دھکیلنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپ کا استعمال کیا ہے۔

سینکڑوں کی تعداد میں تارکین وطن اس وقت ہنگری کی سرحد سے متصل سربیا کے علاقے ہوگوز میں جمع ہیں اور ہنگری میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہنگری نے سرحد کو خاردار تاروں کی مدد سے بند کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ہنگری کی پولیس اور تارکین وطن میں سرحد پر کشیدگی کا ماحول ہے۔

ہنگری کے راستے جرمنی جانے کی کوشش میں تارکین وطن نے احتجاجاً سرحد پر تعینات ہنگری کے سکیورٹی اہلکاروں پر پانی کی بوتلیں اور پتھر پھینکے جبکہ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپ کا استعمال کیا۔

ٹی وی پر نشر ہونے والے مناظر میں سربیا کی حدود میں آگ لگی ہوئی تھی جبکہ پولیس اہلکار اور ایمبولینس وہاں پہنچ رہی تھیں۔ سرحد کی دوسری جانب ہنگری کی پولیس تعینات تھی۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی نے بتایا کہ جھڑپوں کے بعد ایمبولینس کے ذریعے کئی زخمی افراد کو طبی امداد دی گئی۔ ان میں سے زیادہ تر افراد آنسو گیس سے متاثر ہوئے تھے جبکہ ایک شخص کو ٹانگ پر زخم آئے۔

وہاں موجود عراق کے عامر حسین نے بتایا کہ’ ہم جنگ اور تشدد سے بھاگ کر یہاں آئے ہیں اور ہمیں یورپ میں اس غیر انسانی اور ظالمانہ رویے کی توقع نہیں تھی۔‘

جھڑپوں کے واقعے کے بعد ہنگری کے وزیر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق انھوں نے سربیا سے کہا ہے کہ وہ سرحدی پولیس پر حملے کرنے والے تارکین وطن کے خلاف کارروائی کرے۔

دوسری جانب کروئیشیا نے کہا ہے کہ وہ تارکین وطن کو شمالی یورپ جانے کا راستہ فراہم کرے گا اور اس نے ہنگری کی جانب سے سربیا کے ساتھ سرحد کو ایک دن بعد ایک نیا راستہ کھل گیا ہے۔

منگل کی رات کو تارکین وطن کا پہلا گروپ سربیا اور کروئیشیا کی سرحد پر پہنچا تھا جسے یورپی ممالک میں جانے کا نیا راستہ کہا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption بہت سے لوگ اس خار دار باڑ کو عبور کرنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں جبکہ دیگر لوگ احتجاجاً کھانے پھینک رہے ہیں

منگل کو ہنگری نے جب سربیا کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کر دیا تو تارکین وطن کو لے کر کئی بسیں سیڈ شہر کی جانب روانہ ہوئیں جبکہ ہزاروں افراد جو جرمنی جانے کی کوشش میں ہیں وہ اس فیصلے سے محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

سرحدوں پر نافذ کی جانے والی نئی پابندیوں اور یورپی ممالک میں کوٹے کے تحت تارکین وطن کو پناہ دینے کے معاملے پر یورپی ممالک میں پناہ گزین کے مسئلے پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن ہنگری میں داخلے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہنگری کی سرحد بند ہونے کے بعد تارکین وطن نئے راستوں کی تلاش میں ہیں

یورپی یونین کی باڈر ایجنسی کے مطابق رواں سال اب تک پانچ لاکھ سے زائد تارکینِ وطن ممبر ممالک میں پہنچے جبکہ گذشتہ برس یہ تعداد تین لاکھ سے کم تھی۔ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سمندری راستہ عبور کر کے یہاں آئے۔

تاہم دوسری جانب سربیا کے وزیرِ الایکسندر ولین کہتے ہیں کہ ہنگری کی جانب سے سرحد کو بند کرنا غیر موزوں اقدام تھا۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ہنگری کی حکومت نے انھیں سرحد بند کرنے سے قبل آگاہ نہیں کیا تھا اور دونوں ممالک کے حکام کے درمیان بہت کم ہی رابطہ ہے اور بات چیت باڑ کے اطراف سے ہی ہو رہی ہے۔

کوٹے پر جھگڑا

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption یورپ میں پناہ گزینوں کا مسئلہ ہنگامی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے

منگل کو یورپی یونین کے ممبران نے اٹلی اور یونان سے آنے والے 40 ہزار تارکینِ وطن کی دوبارہ آبادکاری پر رضامندی کا اظہار کیا۔ تاہم ابھی ان ممالک کی خود کو تفویض کردہ کوٹے پر عمل درآمد کے لیے رضامندی دی جانا باقی ہے۔جس کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار تارکینِ وطن کی مدد کی جائے گی۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے یہ مسئلہ صرف مل جل کر حل ہو سکتا ہے۔ اور یہ پورے یورپی یونین کی ذمہ داری ہے۔ تاہم دوسری جانب چیک رپبلک، سلواکیا اور ہنگری نے تارکینِ وطن کے حوالے سے کوٹے کے طریقۂ کار کی مخالفت کی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی ترجمان ملیسا فلیمنگ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے دو ٹوک ایکشن نہ ہونے کی وجہ سے وہ سمجھتی ہیں کہ تارکینِ وطن کا بحران جاری رہے گا۔

جرمنی نے پیر کو سرحد پر عارضی کنٹرول کو متعارف کروایا تھا ۔اس کی بدولت تارکینِ وطن کی آسٹریا جانے کی رفتار میں کمی آئی جہاں 2000 افراد نے رات ریلوے سٹیشن پر ہی گذاری۔

اسی بارے میں