’میں نے ایک محفوظ راستے کا انتخاب کیا‘

Image caption ابراہیم نے یورپ جانے کے پرخطر راستے کی بجائے برازیل کے محفوظ سفر کو ترجیح دی

ابراہیم جب برازیل کے شہر ساؤ پالو کے ایئرپورٹ پر اترے تو تین دن تک بغیر کسی مقصد کے شہر میں گھومتے رہے اور فرش پر سوتے تھے۔

ابراہیم کے مطابق انھیں مقامی زبان نہیں آتی تھی اور یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کس سے مدد لینی ہے۔

پناہ گزینوں کا بحران اور تارکین وطن کا بحران

ابراہیم نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اپنے خاندان کا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ اب بھی ان کے رشتہ دار شام میں ہیں۔

20 سالہ ابراہیم کو برازیل آنے پر کوئی پچھتاوا نہیں اور وہ خوش ہیں کہ کئی شامی شہریوں کی طرح سمندر کا پر خطر سفر کا سامنا کرنے کی بجائے انھوں نے محفوظ طریقے سے ہوائی جہاز کے ذریعے برازیل آنے کو ترجیح دی۔

یورپ کے مقابلے میں برازیل آنا یقیناً زیادہ سستا تھا

Image caption ابراہیم کے بھائی محمد شامی جنگ میں زخمی ہو گئے

جب مجھے معلوم ہوا کہ بیروت میں برازیل کا سفارت خانہ شام میں جنگ کے متاثرین کو ملک میں آنے کی اجازت دے رہا ہے تو یہ مجھے سب سے بہترین راستہ لگا۔ میں کیوں تین سے چار ہزار ڈالر خرچ کرتا تاکہ مجھے سمندر کے راستے یورپ سمگل کیا جاتا اور اس میں ڈوبنے کا بھی بہت خطرہ ہوتا اور جب آپ کے پاس نصف قیمت میں ہوائی جہاز کے ذریعے برازیل پہنچنے کا راستہ موجود ہو۔

ابراہیم نے شامی فوج میں جبری بھرتی ہونے سے وہاں سے نکل جانا مناسب سمجھا لیکن ان کا بڑا بھائی زیادہ خوش قسمت ثابت نہیں ہوا لیکن پھر بھی یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا کہ وہ فرار ہو کر اپنے بھائی کے ساتھ برازیل پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔

ابراہیم کے بھائی محمد نے اپنی ٹانگوں اور بازوں پر گولیوں اور بم کے ٹکڑوں کے نشانات دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اس کی زیادہ پروا نہیں ہے کہ جنگ میں کون کس کے ساتھ ہے کیونکہ یہ ملک کو برباد کر رہی ہے۔

یہ کہنا ٹھیک نہیں ہو گا کہ ابراہیم اور محمد کی طرح سات ہزار شامی شہریوں کی برازیل آنے پر زندگی آسان ہو گئی۔

برازیل کی مشرق وسطیٰ، افریقہ اور دیگر ممالک سے مہاجرین اور معاشی تارکین وطن کو قبول کرنے کی بہت پرانی روایت ہے۔

پناہ کے متلاشی افراد کو برازیل پہنچتے ہی پناہ کی درخواست دینا ہوتی ہے اور جب برازیل کی معیشت میں گذشتہ ایک دہائی سے بہتری آ رہی ہے تو روزگار کے مواقعے بہت جلدی ہی مل جاتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے برازیل کی صدر ڈلیما روزیف نے ایک اخبار میں لکھے گئے اداریے میں کہا ہے کہ جب یورپی ممالک تارکین وطن کے معاملے پر ٹال مٹول کر رہے ہیں اور اس بحث میں مصروف ہیں کہ کتنے تارکین وطن کو قبول کیا جانا چاہیے تو برازیل کو فخر ہے کہ وہ اس عالمی مسئلے کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

انھوں نے اداریے میں مزید لکھا کہ’ایک کروڑ سے زیادہ (برازیل شہریوں) کے آباو اجداد شام اور لبنان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن سے ہے اور ہم اس پر احسان مند ہیں اور اس کو ایسے ہی دیکھیں گے۔‘

برازیل کی صدر نے اداریے میں لکھا کہ’برازیل کھلے دل سے ان تارکین وطن کو لے گا جو یہاں رہنا اور کام کرنا چاہتے ہیں اور ہم انھیں اس امید کی پشکش کرتے ہیں۔‘

برازیل میں مشکل زندگی

Image caption حیفر کا خاندان ایک کمرے میں رہنے پر مجبور ہے جو پہلے ایک دفتر ہوا کرتا تھا

براہیم اور محمد اس وقت ریو ڈی جنیرو میں ایک مقبول اور مصروف لیکن چھوٹے سٹال کو چلا رہے ہیں جس میں وہ گھر میں تیار کردہ حمص، کبی اور مشرق وسطیٰ کی دیگر پیسٹریز فروخت کرتے ہیں۔ سٹال سے حاصل ہونے والی رقم سے وہ اپنے عمر رسیدہ والدین اور دو چھوٹے بھائیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

دونوں برازیل کی صدر کے پناہ گزینوں کے گرمجوشی اور احترام سے خوش آمدید کہنے کے دعوے پر اتفاق کرتے ہیں لیکن جب وہ برازیل پہنچے تو سرکاری مدد کے حوالے سے ایک مکمل خلا دیکھنے کو ملا۔

حیفر کے خاندان کو گھر جیسا تھوڑا آرام دستیاب ہے لیکن وہ اپنے طور پر اچھی مہمان نوازی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

23 سالہ آمنہ ایک چولہے پر کافی بنا رہی تھی جب میں نے ایک چھوٹے کمرے میں داخل ہونے کے لیے اپنے جوتے اتارے۔ خاندان کے سب افراد اسے کمرے میں اکٹھے رہتے ہیں۔

جمال حیفر اپنی اب تک زندگی پناہ گزین کے طور پر ہی گزاری، وہ فلسطینی ہیں اور ان کے والدین 1948 میں شام منتقل ہو گئے تھے۔

وہ شامی شہر دمشق میں دو برس پہلے اس وقت اپنا مکان چھوڑنے پر مجبور ہوئے جب ان کا محلہ جنگ کی وجہ سے تباہ ہو گیا۔

اب جمال شام سے بہت دور اپنے خاندان کے ساتھ برازیل آ گئے ہیں۔ جمال نے بتایا ہے کہ یورپ میں پناہ گزینوں کی زیادہ مدد کی جا رہی ہے۔

’لیکن ہم جانتے تھے کہ سمندر کے راستے وہاں جانا خطرناک ہے۔ تو جب ہمیں معلوم ہوا کہ بیروت میں برازیل کا سفارت خانہ ویزے کی پیشکش کر رہا ہے تو ہم نے سوچا کہ ایسے ملک میں جانا زیادہ بہتر جو ہمیں قبول کر رہا ہے۔‘

شام کی جنگ نے ان سے خاندان، ان کا گھر اور بچوں کی تعلیم چھین لی۔

جب دو لڑکے گھر سے باہر روزگار کی تلاش میں گئے ہوئے تھے تو اس وقت اس خاندان کی چار لڑکیاں جو تین برس سے سکول نہیں گئی ہیں، کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھیں اور اس وہاں پرتگالی زبان کی ابتدائی کتابوں کا مطالعہ کر رہی تھیں۔

شامی جنگ سے تو بچ گئے لیکن برازیل میں زندگی اب بھی مشکل ہے

Image caption عبدل سلام سید اب بھی ہزاروں میل دور اپنے وطن کے حالات پر رنج و غم کا اظہار کرتے رہتے ہیں

ساؤ پالو میں حکومت کی بجائے ایک فلسطینی خیراتی ادارے نے حیفر کے خاندان کو ایک سابقہ دفتر میں ٹھہرایا۔ یہ خیراتی ادارہ ہی حیفر کے کمرے کا بجلی اور پانی کا بل ادا کرتا ہے لیکن اب بھی خاندان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ کمرے میں کب تک رہیں گے۔

صرف برازیل کے وفاقی اور ریاستی حکومتوں پر تارکین وطن کے لیے زیادہ انتظامات کرنے پر زور نہیں۔

بلکہ معاشی طور پر مستحکم برادریوں سے بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اس میں اپنا کردار ادا کریں۔

گذشتہ صدی میں ایک جدید برازیل کی بنیاد رکھنے میں جنوبی امریکہ کے تارکین وطن کے ساتھ ہزاروں شامی تارکین وطن نے بھی حصہ لیا تھا۔

شام سے تعلق رکھنے والی برازیلی شہریوں پر بھی میڈیا کے چند حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ سے آنے والےتارکین وطن کی منظم انداز میں مدد کرنے میں آگے نہیں آ رہے۔

ساؤ پالو میں عبدل سلام سید اپنے انداز میں ہزاروں میل دور اپنے بکھرے ہوئے وطن پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔

ان کے گھر دمشق میں ایک اور پناہ گزین نکلنے پر مجبور ہوا۔ عبدال سلام برازیل کی جانب سے چھت کا سہرا دینے پر خوش ہیں لیکن زندہ رہنا اور آباد ہونا ان لوگوں کے لیے ایک بڑا چلینج ہو گا جو پہلے ہی بہت کچھ بھگت چکے ہیں۔

اسی بارے میں