’غیر ملکی، مقامی جنگجوؤں میں فرق واضح‘

Image caption عمر حسین نے سر قلم کرنے کے اقدام کا دفاع کیا اور برطانوی عوام کو دھمکی دی ہے کہ اُن پر حملے کیے جائیں گے

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شامل ایک برطانوی جنگجو نے سوشل میڈیا پر عربوں کے خلاف تعصبانہ پیغام شائع کیا ہے جس سےشام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے زیر اثر علاقوں میں کشیدگی کی ایک حیران کن جھلک سامنے آئی ہے۔

عمر حسین ان 700 برطانوی جنگجوؤں میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مسلح گروپس میں شامل ہونے کے لیے شام اور عراق گئے۔

وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر گروپ کی تشہیر کے لیے ایک موثر آواز بن گئے ہیں جو دہشت گردانہ حملوں کے لیے ابھارتے ہیں۔انھوں نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں برطانیہ کو دھمکی دی اور کہا کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جانب سے سر قلم کرنے اور دیگر مظالم کے حق میں ہیں۔

لیکن حال ہی میں انھوں نے ٹمبلر پر میں اپنے تخلص ابو سعید کے نام سے موجود صفحے پر عربوں اور اپنے شامی میزبانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اپنی پوسٹ میں انھوں نے شکایات کی ایک لسٹ دی ہے جس میں وسیع دقیانوسی تصورات اور غلط معلومات دی گئی ہیں۔

شام کی عوام ’بچوں جیسے‘ ہیں اور وہ ’جوتا چور‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، کھانا چوری کرلیتے ہیں اور دوسرے افراد کے موبائل فون کے چارجر استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے شامیوں پر گندا اور سست ہونے کا بھی الزام لگایا ہے۔

بلاگ میں عجیب سے غلط بیانات دیے گئے ہیں۔

حسین نے لکھا ہے کہ ’شامیوں کو غیر ملکیوں کو گھورنا پسند ہے ہوسکتا ہے کہ کبھی کسی سیاح نے شام کا رخ نہ کیا ہو۔‘ (جنگ سے پہلے شام سیاحت کی اہم صنعت تھی۔)

حسین نے زور دیا کہ ان کا مطلب شام کی ثقافت کا ’مذاق‘ اڑانا نہیں تھا لیکن انھوں نے جہادیوں کو ’یورپی جنگجو کے گروہ‘ میں شامل ہونے کی تجویز دی اور شامیوں اور عربوں کی عادات کو ’تکلیف دہ‘ قرار دیا۔

تھنک ٹینک کوئلیم فاؤنڈیشن کے سینیئر محقق چارلی وینٹر کا کہنا ہے کہ اس پوسٹ سے مقامی آبادی اور شام کا سفر کرنے والے غیر ملکی جنجگوؤں میں خلیج واضح ہوتی ہے۔

’غیر ملکی جنگجو زندگی کے مختلف سطحوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ انھیں بہتر قیام گاہیں دی جاتی ہیں، زیادہ رقم، اچھا کھانا اور یہ وہ چیزیں ہیں جو آپ مسلسل باغیوں سے سنتے ہیں۔‘

Image caption شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے

وینٹر کا کہنا ہے کہ ’یہ خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم کے باضابطہ موقف سے بالکل مختلف ہے جو یہ ہے کہ سب برابر ہیں اور سب کو ایک سے مواقع اور فوائد حاصل ہیں۔‘

’واضح طور پر وہ مقامی شام کے شہریوں کو دولت اسلامیہ کے کمتر حامیوں کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال سے وہ اپنے پیر پر خود کلہاڑی مار رہا ہے اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کے پیروں پر بھی مارنا چاہتا ہے۔‘

وینٹر کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار دولت اسلامیہ کے جنگجو ٹوئٹر پر’مدانی‘ یعنی مقامی شہریوں کے خلاف شکایات کرتے نظر آتے ہیں اور وہ لوگ جو شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے زیر اثر علاقوں سے فرار ہوئے ہیں وہ غیر ملکی جنگجوؤں اور نئے آنے والوں کے درمیان فرق کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں۔ لیکن شاید ہی کبھی کسی غیر ملکی جنگجو نے مقامی لوگوں کے لیے اپنی نفرت کے بارے میں اس سطح پر آکر اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں