پناہ گزینوں کا دکھ محسوس کرنا ممکن نہیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

مصطفیٰ تغلوی کو جرمنی کے تاریخی شہر میونخ آئے تیس برس بیت چکے ہیں لیکن ان کے بقول ان کا شہر میں ایک بھی مقامی سفید فام جرمن دوست نہیں۔

وہ پہلے شخص تھے جن سے میری میونخ پہنچنے کے بعد بات ہوئی تھی۔ مجبوری تھی کیونکہ وہ ہمارے ٹیکسی ڈرائیور تھے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ حجام بال کاٹتے وقت اور ٹیکسی ڈرائیور سفر کے دوران آپ سے بات نہ کرے؟

مجھے مصطفیٰ کی بات سن کر تھوڑا تعجب ہوا خاص طور پر اس استقبال کے بعد جو جرمنی کی حکومت اور عوام کی ایک خاصی تعداد نے شام اور دیگر ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کا کیا ہے۔

ہم سب نے دیکھا کہ سینکڑوں لوگوں نے میونخ کے سٹیشن پر ہزاروں پناہ گزینوں کا ’ریفیوجیز ویلکم‘ کے پوسٹر اٹھائے استقبال کیا تھا۔

میں نے مصطفیٰ سے پوچھا کہ 30 برس میں کیوں آپ کا کوئی دوست نہیں بنا، تو وہ ذرا جذباتی ہو کر بولے ’وہ ہم سب سے نفرت کرتے ہیں۔وہ نہیں چاہتے کہ تارکین وطن یہاں آئیں لیکن پولیٹکس مختلف ہے۔ سیاستدان ان لوگوں کو لانا چاہتے ہیں امریکہ کے دباؤ میں۔‘

یہ منطق کچھ خاص سمجھ نہیں آئی لیکن ظاہر ہے یہ ان کا نکتہ نظر تھا اور میں مزید بحث کرنا نہیں چاہتا تھا۔

میونخ شہر کا مرکزی علاقہ مشرق وسطیٰ، ترکی، ایشیا، جنوبی ایشیا اور افریقہ سے آئے ہوئے نئے اور پرانے تارکین وطن سے بھرا ہوا ہے۔ سفید فام مقامی جرمن باشندے اس علاقے میں خال خال نظر آتے ہیں۔

یہاں واقع شہر کا مرکزی ریلوے سٹیشن، جہاں یورپ بھر سے ریل گاڑیاں آتی ہیں، ایک بہت بڑے بین الاقوامی پلیٹ فارم کا منظر پیش کرتا ہے۔ ہر نسل، رنگ، مذہب، طبقے اور مکتبہ فکر کا شخص آپ کو یہاں ملے گا۔

کہیں عرب خواتین سرخی پاؤڈر اور مخصوص عرب عطر لگائے، لیکن حجابوں میں لپٹی، کھلکھلاتی نظر آتی ہیں تو آرمینیا کی خانہ بدوش خواتین میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس اپنے بچوں کو سینوں سے چمٹائے گداگری کرتی بھی ملیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption میونخ کا مرکزی ریلوے سٹیشن، جہاں یورپ بھر سے ریل گاڑیاں آتی ہیں، ایک بہت بڑے بین الاقوامی پلیٹ فارم کا منظر پیش کرتا ہے

سفید فام جرمن اور ایشیائی اور افریقی اشرافیہ کے لوگ اپنے اردگرد کے بھوکے، پیاسے اور مدد کے متلاشی لوگوں سے بے نیاز اپنی زندگیوں میں مگن دکھائی دیے۔

مجھے شہر میں تین پاکستانی ملے جو لگ بھگ آگ کا دریا پار کر کے جرمنی پہنچے تھے۔

نوید احمد آٹھ برس سے پاکستان سے نکلے ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے علاقے گجرات سے ہے۔ وہ تقریباً سات برس سے یونان میں تھےاور 21 دن پہلے ہی جرمنی پہنچے۔ انہیں میونخ سے پانچ گھنٹے کی مسافت پر ایک پہاڑی علاقے میں رکھا گیا ہے جہاں ان کے بقول نہ مارکیٹیں ہیں، نہ دکانیں اور نہ ہی بس سٹاپ۔

وہ 21 دن میں جرمنی سے بور ہوگئے اور اب ان کی اگلی منزل یونان ہے لیکن ان کے دو ساتھیوں محسن رشید اور ناصر عباس نے ہمت نہیں ہاری۔

محسن کہتے ہیں وہ جرمنی میں ہی رہ کر کام کریں گے، قانونی طور پر رہنے کی دستاویزات لیں گے اور کام شروع کریں گے تاکہ پیچھے اپنوں کا پیٹ پال سکیں۔ ’میں واپس کس منھ سے جاؤں۔‘ محسن سے الٹا مجھ سے سوال کر دیا۔

ناصر حسین کہتے ہیں وہ شیعہ ہیں۔ بقول ان کے شیعوں کا پاکستان میں رہنا بہت مشکل ہوگیا ہے اور یہی وہ اپنی پناہ کی درخواست میں کہیں گے۔ ناصر حسین نے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی پاکستان میں ہیں جنھیں انھوں نے آٹھ برس سے نہیں دیکھا۔

اس بات چیت کے دوران ان کی آنکھوں کی نمی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی۔

Image caption نوید احمد آٹھ برس سے پاکستان سے نکلے ہوئے ہیں لیکن 21 دن میں جرمنی سے بور ہونے کے بعد ان کی منزل یونان ہے

میرے دو بچے ہیں اور صرف ایک رات میں ان سے دور رہا ہوں تو مجھے ان سے ملنے کی بےچینی محسوس ہورہی ہے۔ میں ناصر کے دکھ کو شاید کسی حد تک سمجھ سکوں، لیکن محسوس کرنا میرے بس کی بات نہیں۔

جہاں میں ان پناہ گزینوں یا تارکین وطن سے ملا (آپ کے نظریات پر منحصر ہے کہ آپ ان کو کیا سمجھتے ہیں) اس سے صرف ایک سڑک آگے رات جوان تھی۔ وہاں سٹرپ ٹیز اور پول ڈانسنگ کلب تھے، جوئے خانے تھے اور بےشمار ترکی ، عرب اور اطالوی ریستوران تھے۔

کھانا کھاتے ہوئے مجھے ایرانی تارک وطن مصطفیٰ تغلوی یاد آیا۔ وہ کہہ رہا تھا یہ جرمن ہم سے نفرت کرتے ہیں لیکن مصطفیٰ کے علاوہ جس سے میں ملا اس نے جرمنوں کی تعریف کی۔

شاید وہ جس تکلیف سے گزر کر اس گوشۂ عافیت میں پہنچے تھے اس نے ان کی سوچ پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔

میں اور میرا ساتھی کھانا کھا رہے تھے تو ناصر حسین اور اس کے دوست سڑک سے گزر رہے تھے۔ وہ ہمیں دیکھ کر ہماری طرف چلے آئے۔ کچھ خوش گپیاں ہوئیں اور جاتے جاتے ناصر حسین مجھے مصطفیٰ کا مسئلہ سمجھنے میں مدد کر گیا۔

اس نے کہا، ’جاوید بھائی آپ پاکستان سے ہو، پاکستان کی پولیس کو جانتے ہو، میں بس اتنا کہوں گا کہ پاکستان کی پولیس یونان کی پولیس سے بہت اچھی ہے۔ اور جرمن تو بہت عزت سے بات کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں