’تیل کی قیمتوں کے بارے میں پیشن گوئی مشکل ہے‘

بن وین بیورڈن
Image caption تیل سستا ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ صارفین اسے زیادہ استعمال کرنا شروع کر دیں گے: بن وین بیورڈن

رائل ڈچ شیل کے چیف ایگزیکٹیو بن وین بیورڈن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں بحالی فی الحال مشکل نظر آتی ہے۔

انھوں نے بی بی سی ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ ’یہ رسد اور طلب کے حوالے سے بہت تیزی سے بدلنے والا کاروبار ہے۔ تیل کی قیمتیں رسد اور طلب کے بڑے چھوٹے نامناسب جوڑ سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔‘

گذشتہ برس سے تیل کی قیمتوں میں تقریباً نصف کمی واقع ہوئی ہے، یعنی ایک بیرل کی قیمت 50 ڈالر کے قریب ہے۔

عالمی بازارِ حصص میں مندی، امریکہ میں خام تیل 40 ڈالر پر آ گیا

گولڈمین ساکس نے اس ماہ کے اوائل میں پیشن گوئی کی تھی کہ یہ 20 ڈالر فی بیرل تک گر سکتی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ تیل کی قیمتیں اب یہاں سے کہاں جائیں گی تو انھوں نے کہا: ’سچ تو یہ ہے کہ میں نہیں جانتا۔‘

تیل کی قیمتوں میں پچاس فیصد کمی کی وجہ ’عالمی منڈی میں تیل کی فراوانی میں محض چند فیصدی کا اضافہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیل کی قیمتوں کا پورا نظام کتنا غیر لچکدار ہے۔ اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا یہ مطلب نہیں کہ کہ اب اس کی رسد میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ shana
Image caption تیل کی قیمتیں پہلے سے تقریباً آدھی قیمت پر آ گئی ہیں

انھوں نے کہا کہ تیل کے سستا ہونے سے صارف اسے زیادہ استعمال کرنا نہیں شروع کر دیں گے، جیسا کہ دوسری اشیا کے ساتھ ہو سکتا ہے۔

’لوگ اس لیے دو بار کام پر نہیں جاتے کہ اب یہ پہلے سے سستا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے لیے طلب، شمالی امریکہ کی شیل یعنی چٹانوں سے تیل کی پیداوار، اوپیک کی پالیسی اور صنعت کے اخراجات ہی یہ بتائیں گے کہ مستقبل میں تیل کہاں جائے گا۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک، خصوصاً سعودی عرب، نے امریکہ کی شیل پیداوار کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں تیل کی پیداوار زیادہ کر دی ہے، جو کہ کم قیمت پر بالکل غیر کفایت شعارانہ ہے۔

اوپیک ایسا اپنے قرض کو کم رکھ کے ہی کر پا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تنظیم کا قرض اس کے کل سرمائے کا 12 فیصد ہے۔

جون میں شیل نے کہا تھا کہ وہ تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے بعد اخراجات کم کرنے کے لیے 6500 ملازمین کو ملازمت سے برخاست کر رہا ہے۔

وین بیورڈن نے کہا کہ شمسی توانائی دنیا کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔

’مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ آنے والے برسوں میں شمسی توانائی ہمارے توانائی کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو گی، یقیناً ہمارے بجلی کے نظام میں۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ اس دوران توانائی کی طلب دگنی ہو جائے گی، جو کہ کئی دہائیوں تک جاری رہے گی اور اس دوران فوسل فیول (زمین سے حاصل شدہ ایندھن) توانائی کے لیے غالب رسد رہے گا۔

یورپی یونین سے برطانیہ کے ممکنہ انخلا کے سوال پر انھوں نے کہا کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے نکل جانے سے انھیں بڑی مایوسی ہو گی کیونکہ ان کی کمپنی کا برطانیہ میں ثقافتی ورثہ ہے۔

اسی بارے میں