باغیوں کے انتخابات امن کے لیے خطرہ ہیں: یوکرینی صدر

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption مشرقی یوکرین میں دو ہفتوں سے فائر بندی کے معاہدے پر عمل ہو رہا ہے

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقوں میں باغیوں کی جانب سے انتخابات منعقد کرانے کا فیصلہ قیام امن کے عمل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہو گا۔

انھوں نے چار سو افراد کے علاوہ 90 کمپنیوں کو کرائمیا کے روس سے الحاق کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

مشرقی یوکرین میں باغیوں نے خود ساختہ دونیستک پیپلز رپبلک میں آئندہ ماہ 18 اکتوبر کو انتخابات کے انعقاد کی تصدیق کی تھی۔ ہمسایہ خطے لوہانسک میں باغی یکم نومبر کو انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں۔

یوکرین کی حکومت کو امریکہ اور یورپی اتحاد کی حمایت حاصل ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے انتخابات رواں برس فروری میں بیلاروس میں طے ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی ہوں گے۔

حکومت کا موقف ہے کہ باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں انتخابات ملکی قوانین کے تحت ہی ممکن ہیں۔

باغیوں کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کی تاریخ حکومت کے زیر قبضہ علاقوں میں مقامی انتخابات کی دی گئی 25 اکتوبر کی تاریخ سے بھی متصادم ہیں۔

روس نواز باغی اور روس یوکرین پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ امن معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا۔

یوکرین کے صدر وکٹر پوروشینکو نے بدھ کو کہا کہ 18 اکتوبر اور یکم نومبر کو جعلی انتخابات منعقد کرنے کا فیصلہ بہت خطرناک ثابت ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باغیوں نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں 25 اکتوبر کو انتخابات منعقد کرانے کا اعلان کیا ہے

انھوں نے کہا کہ باغیوں کے فیصلے پر سخت ردعمل دینے کی ضرورت ہے اور انھوں نے چار سو افراد اور 90 کمپنیوں پر ایک برس کی پابندی عائد کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔

وکٹر پوروشینکونے زور دیا ہے کہ پابندیاں لگانے کا فیصلہ امریکہ، یورپی اور دیگر اتحادی ممالک سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

جن افراد کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے ان میں روسی حکومت کے اہلکار اور مشرقی یوکرین کے ڈونباس خطے کے علیحدگی پسند رہنما شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کئی غیر ملکی صحافیوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور اس میں بی بی سی کے کچھ صحافی بھی شامل ہیں۔

ان پابندیوں کے جواب میں بی بی سی کے خارجہ امور کے مدیر اینڈریو رائے کا کہنا ہے کہ ’یہ آزادیِ صحافت پر ایک شرمناک حملہ ہے۔ یہ پابندیاں بالکل غیر مناسب اور بی بی سی کے صحافیوں کے خلاف ناقابل بیان اقدامات ہیں جو یوکرین کی صورت حال پر غیر جانبداری سے رپورٹنگ کر رہے ہیں اور حکومت کو ان کے ناموں کو اس فہرست سے فوری طور پر نکالنا ہو گا۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی یوکرین میں اپریل 2014 میں شروع ہونے والی لڑائی سے اب تک سات ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا تھا کہ اس لڑائی میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 17 ہزار سے زائد ہے۔

یوکرین، مغربی رہنماؤں اور نیٹو کا کہنا ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں بھاری ہتھیار اور فوج فراہم کر کے باغیوں کی مدد کر رہا ہے جبکہ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ صرف رضاکار باغیوں کے ساتھ لڑائی میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں