’آئی سٹینڈ ود احمد‘ کے پیچھے کون تھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption آمنہ جفاری حیران ہیں کہ ان کا بنایا ہوا ہیش ٹیگ اتنی مقبولیت حاصل کرچکا ہے

امریکی ریاست ٹیکسس کےکالج کی طالبہ کی جانب سے 14 سالہ احمد محمد کی حمایت کے لیے بنائے گئے ہیش ٹیگ نے ٹوئٹر پر 24 گھنٹوں میں ایک مہم کی شکل اختیار کرلی ہے۔

سات لاکھ سے زائد افراد نے ٹوئٹر پر احمد محمد کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے 14 سالہ طالب علم احمد محمد کی گھر میں بنائی ہوئی گھڑی کو سکول لانے پر بم سمجھ کر انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اِروِنگ میں میک آرتھر ہائی سکول کے طالب علم احمد اپنی بنائی ہوئی گھڑی انجینیئرنگ کے استاد کو دکھانے کے مقصد سے سکول لے گئے تھے۔ ایک استانی نے جب وہ گھڑی دیکھی تو فوری طور پر پولیس کو بلوا لیا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کے بعد ان کو ہتھکڑی ڈال کر بچوں کی جیل بھیج دیا گیا تھا۔

پولیس نے بعد میں اس بات کو تسلیم کیا کہ احمد کی بنائی ہوئی گھڑی خطرناک نہیں تھی اور ان پر باقاعدہ طور پرکوئی الزام نہیں عائد کیا گیا ہے۔

احمد کے ساتھ ہونے والے سلوک کو نسلی امتیاز اور نا انصافی سمجھنے والے افراد سوشل میڈیا پر’آئی سٹینڈ ود احمد‘کا ہیش ٹیگ استعمال کرکے ان کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس ہیش ٹیگ کا آغاز آمنہ جفاری نے کیا تھا۔ انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’اگر ان کا نام جان ہوتا تو کہا جاتا وہ ذہین ترین بچہ ہے۔ لیکن کیونکہ ان کا نام احمد ہے اس لیے ان کو ’مشتبہ‘ بنادیا گیا۔ #ڈبل سٹینڈرڈز #آئی سٹینڈ ود احمد۔‘

آرلنگٹن میں ٹیکسس یونیورسٹی (یو ٹی اے) کی 23 سالہ طالبہ جفاری کو یہ جان کر صدمہ پہنچا تھا کہ ان کی ریاست میں اتنے کم عمر طالب علم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Anil Dash

بی بی سی ٹرینڈنگ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ نو بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں اوران میں سے دو کی عمریں احمد کی عمر کے آس پاس ہیں اس لیے انھیں ’اس واقعے کا زیادہ شدت سے احساس ہوا۔‘

ان کے کچھ دوستوں کے بہن بھائی میک آرتھر سکول میں ہی زیر تعلیم ہیں اور اس لیے ٹوئٹر پر یہ واقعہ جلد ہی ان کی نظروں میں آگیا تھا۔ وہ ڈیلس شہر میں اس واقعے کے بارے میں آگاہی پھیلانا چاہتی تھیں اور آن لائن اس واقعے کی تشہیر کے لیے انھوں نے ہیش ٹیگ کا استعمال کیا۔

اس واقعے کے بارے میں ان کا پہلا ٹویٹ کے ری ٹویٹ (دوبارہ ٹوئیٹ) ہونے کی تعداد 501 بار ہے جو کہ ٹویٹر پر ان کے کُل فالوئرز کی تعداد سے دگنی ہے۔

یو ٹی آے کے مسلمان طالبعلوں کی تنظیم، مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (ایم ایس اے) کی سابق صدر ہونے کی حیثیت سے اسلام مخالف جذبات اور مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کے موضوعات پر بات کرنا ان کے لیے نئی بات نہیں۔

وہ کہتی ہیں ’لوگوں کے ذہنوں میں مسلمانوں کے بارے میں غلط تصورات موجود ہیں۔ میرے (ایم ایس اے) جانے کی وجہ یہی تھی کے میں اپنے ہم خیال لوگوں سے ملنا چاہتی تھی۔‘

وہ ہیش ٹیگ کے ذریعے نسلی تعصب کے مسئلے کو اجاگر کرنا چاہتی تھیں اور اُس وقت انھیں خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا جب انھوں نے دیکھا کہ احمد کی حمایت میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی آگے آئے ہیں۔

جفاری کہتی ہیں ’مجھے ایسامحسوس ہو جیسے اُن لفظوں میں اتنی طاقت تھی کہ وہ نہ صرف احمد بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی تھےجن کو مذہبی بنیادوں پر، ان کی نسل یا نام کے باعث امتیازی سلوک کا سامنا رہا ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption احمد نے گھڑی بنائی تھی جسے وہ سکول میں ٹیچر کو دکھانا چاہتے تھے

احمد کے گھر والوں کی جانب سے ٹوئیٹر پر باقاعدہ طور پر ’@آئی سٹینڈ ود احمد‘ پیج بنانے کے بعد یہ مہم اور بھی تیزی سے پھیل گئی ہے۔ کئی نمایاں شخصیات کی جانب سے بھی اس نو عمر انجینیئر کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔

مختلف ایپس اور ویب سائٹوں کی ڈائریکٹری ’میکربیس‘ کے شریک بانی انیل دیش ٹوئٹر پر لکھتے ہیں کہ ’احمد جہاں چاہیں وہ ان کا رابطہ میکر کے کسی بھی گروہ یا ہارڈ ویئر ہیکنگ گروہ سے کروا سکتے ہیں اور وہ ان کو تمام وسائل مہیا کریں گے۔‘

دیش نے احمد کے لیے ایک گوگل فورم بھی تخلیق کیا ہے جہاں لوگ مستقبل میں احمد کی کام میں ان کی مدد کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے’#ہیلپ احمد میک‘ کے نام سے ایک نیا ہیش ٹیگ بھی متعارف کرایا ہے۔

جفاری حیران ہیں کہ ان کا بنایا ہوا ہیش ٹیگ اتنی مقبولیت حاصل کرچکا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’میرا خیال تھا کہ یہ ہیش ٹیگ صرف ڈیلس میں مقامی سطح پر ہی استعمال ہوگا، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا مقبول ہوجائے گا۔ دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ یوں کھڑے دیکھنا نہایت متاثر کن ہے۔‘

اسی بارے میں