لبنانی صحافی انصاف کی راہ میں رکاوٹ کے الزام سے بری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کرما خیات نے عدالت پر الزام لگایا کہ وہ تنقیدی آوازیں بند کرنا چاہتی ہے

لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کی 2005 میں ہلاکت کی تحقیق کرنے والے اقوام متحدہ کے ٹرائبیونل نے لبنان کی صحافی کرما خیات اور ان کے ٹی وی چینل الجدید کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام سے بری کردیا ہے۔

کرما خیات اور الجدید پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے اہم گواہوں کے بارے میں معلومات شائع کی تھیں۔

تاہم کرما خیات کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے آن لائن پر لگائی گئی براڈکاسٹ نہیں ہٹائی تھی۔

یہ ٹرائبیونل رفیق حریری کو قتل کرنے کے الزام میں پانچ افراد پر ان کی عدم موجودگی پر مقدمہ چلا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 14 فروری 2005 کو رفیق حریری سمیت 21 افراد اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب بیروت میں ایک سڑک پر نصب بم کا دھماکہ ہوا۔

اقوام متحدہ نے اس قتل کی تحقیقات کے لیے سپیشل ٹرائبیونل تشکیل دیا تھا۔

جن پانچ افراد پر اس حملے کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے ان کا تعلق شیعہ تنظیم حزب اللہ سے بتایا جاتا ہے۔

اس ٹرائبیونل میں سب سے پہلے کرما خیات پر مقدمہ چلایا گیا۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ صحافی کرما اور ان کے ادارے الجدید نے جان بوجھ کر اہم گواہوں کے نام شائع کیے جبکہ انھوں نے ان گواہوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے۔

کرما کا کہنا تھا کہ جو فہرست انھوں نے شائع کی تھی اس میں ناموں ظاہر نہیں کیا گیا تھا اس لیے کسی بھی گواہ کی شناخت ناممکن ہو گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ان کی رپورٹس میں ٹرائبیونل سے مبینہ طور پر لیک کی جانے والی خبروں کو منظر عام پر لایا گیا تھا۔ انھوں نے عدالت پر الزام لگایا کہ وہ تنقیدی آوازیں بند کرنا چاہتی ہے۔

اگرچہ کرما کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام سے بری کردیا گیا تاہم جج نے کہا کہ انھوں نے عدالت کے احکامات نہ مان کر توہین عدالت کی ہے۔

یاد رہے کہ عدالت نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ 2012 میں آن لائن پر شائع کی گئی براڈ کاسٹ ہٹائیں۔

کرما کو اگلے ہفتے سزا سنائی جائے گی۔

اسی بارے میں