ہوانا میں پوپ کا ہزاروں کے مجمعے سے خطاب

پوپ فرانسس تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پوپ فرانسس پہلے پوپ ہیں جنھوں نے کیوبا کے عوام کے لیے انہی کی زبان میں دعا کی

عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں اپنے پہلے دورے کے دوران ہزاروں کے مجمعے کے سامنے مذہبی رسم ’ماس‘ یعنی عشائے ربانی ادا کی ہے۔

صدر راؤل کاسترو نے، جو کہ خود کیتھولک نہیں، شہر کے ریوولوشن سکوائر میں ہونے والی اس تقریب میں حصہ لیا۔

کہا جا رہا ہے کہ شاید پوپ فرانسس راؤل کاسترو کے بھائی فیڈل کاسترو سے بھی ملاقات کریں گے۔

سنیچر کو کیوبا پہنچنے کے بعد انھوں نے دونوں ممالک میں تعلقات کی بہتری کو پوری دنیا کے لیے مفاہمت کی ایک مثال کہا تھا۔

انھوں نے امریکہ اور کیوبا کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کی بھی تعریف کی اور کہا ’مصالحتی عمل کے لیے یہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔‘

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی پوپ نے کیوبا کے عوام کے لیے انھی کی ہسپانوی زبان میں دعا پڑھی ہو۔

اس سے قبل پوپ فرانسس نے کہا تھا کہ کیوبا میں کلیسا کو اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے ’ آزادی اور ذرائع حاصل کرنے ضرورت ہے۔‘

کیوبا کے دارالحکومت ہوانا پہنچنے پر ملک کے صدر راؤل کاسترو نے ان کا استقبال کیا۔ ان کی قیام گاہ کے راستے پر ہزاروں لوگ ان کے خیر مقدم کے لیے قطار میں کھڑے ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پوپ فرانسس مقدس عشائے ربانی کی تقریب ریوولوشن سکوائر میں ادا کی

وہ کیوبا میں چار روز ہ دورہ پر ہیں جس کے بعد وہ امریکہ روانہ ہو جائیں گے۔ پوپ فرانسس ایسے پہلے پوپ ہیں جن کا تعلق لاطینی امریکہ سے ہے اور امریکہ اور کیوبا کے درمیان برسوں سے خراب تعلقات کو استوار کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کا سہرا انھیں کو دیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر کیوبا کے صدر نے اس کے لیے ان کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

ہوانا کے ایئر پورٹ پر صدر راؤل کاسترو کے ہمراہ پوپ فرانسس نے کیوبا کے کیتھولک عیسائیوں کے مزید حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا ’تاکہ کلیسا آزادی کے ساتھ کیوبا کے لوگوں کی امیدوں اور ان کی تشویشات پر ان کی حمایت اور حوصلہ بڑھانے کا کام جاری رکھ سکے۔‘

انھوں نے کیوبا اور امریکہ سے آپسی کشیدگی کو کم کرنے والے اس ’راستے کو محفوظ کرنے‘ پر بھی زور دیا۔

اس سے قبل جمعرات کو ویٹیکن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسے امید ہے کہ پوپ کے دورہ سے کیوبا پر 53 برس سے عائد امریکی پابندیوں کا خاتمہ ہوجائے گا اور کیوبا میں آزادی اور حقوق انسانی کی صورت حال بہتر ہوجائےگی۔

سنہ 1998 میں پوپ جان پال دوئم ایسے پہلے پوپ تھے جنھوں نے کیوبا کا دورہ کیا تھا اور تب انھوں نے کہا تھا ’کاش کیوبا خود کو دنیا کے لیے کھولے اور دنیا بھی خود کو کیوبا کے لیے کھولے۔‘

ان کے جانشین پوپ بینیڈکٹ نے بھی سنہ 2012 میں کیوبا کا دوہ کیا تھا۔

اسی بارے میں