تسیپراس کی کامیابی کے بعد یونان میں نئی حکومت سازی کا عمل شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مسٹر تسپیراس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اس بار بھی دائیں بازو کی چھوٹی جماعت ' دی انڈیپینڈٹ گریک' کے سات مل کر نئی مخلوط حکومت بنائیں گے

یونان کے عام انتخابات میں ایک بار پھر سے کامیاب ہونے والے بائیں بازو کے رہنما اور ملک کے وزیراعظم الیکس تسیپراس نے نئی حکومت تشکیل دینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

اس الیکشن میں انھیں پارلیمان کی نصف میں سے کچھ کم سیٹیں ملی ہیں اور مسٹر تسپیراس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اس بار بھی دائیں بازو کی چھوٹی جماعت ’دی انڈیپینڈٹ گریک‘ کے ساتھ مل کر نئی مخلوط حکومت بنائیں گے۔ پہلی حکومت میں بھی یہی جماعت ان کی اتحادی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس جیت نے انھیں آئندہ پورے چار برسوں کے لیے مینڈیٹ فراہم کیا ہے۔

حکومت سازی کے فوراً بعد ان کے لیے سب سے پہلا چيلنج ان اقتصادی اصلاحات کا نفاذ ہے جس کے تحت انھیں سو ارب ڈالر کا قرض حاصل ہوسکے گا جس کا جولائی میں قرضہ دینے والے ممالک نے وعدہ کیا تھا۔

گذشتہ چھ برسوں میں کروائے جانے والے ان پانچویں عام انتخابات میں سابق وزیرِاعظم الیکسس تسیپراس کی بائیں بازو کی جماعت سیریزا پارٹی نے پھر سے کامیابی حاصل کی ہے۔

ان کی مخالف کنزرویٹو جماعت نیو ڈیموکریسی نے شکست تسلیم کر لی ہے جبکہ تسیپراس نے انتخابات میں اپنی فتح کو ’عوام کی فتح‘ قرار دیا ہے۔

یونانی وزارتِ داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق اتوار کو ہونے والے الیکشن میں 55 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔

یونانی حکام کے مطابق اب تک 60 فیصد سے زیادہ ووٹ گنے جا چکے ہیں اور سیریزا پارٹی کو 35 فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ نیو ڈیموکریسی کے ووٹوں کی شرح 28 فیصد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption نیو ڈیموکریسی پارٹی کے رہنما وینجیلس میماراکس نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج سے کے بعد تسیپراس کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ انہیں حکومت بنانی چاہئے جس کی ملک کو سخت ضرورت ہے

انتہائی دائیں بازو کی جماعت گولڈن ڈان سات اعشاریہ ایک فیصد ووٹ لے کر تیسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

اس شرح سے سیریزا کو 300 ارکان کے ایوان میں 144 نشستیں مل سکتی ہیں جبکہ نیو ڈیموکریسی کی نشستوں کی تعداد 75 کے لگ بھگ ہو سکتی ہے۔

سیریزا پارٹی چونکہ حکومت سازی کے لیے حتمی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی اس لیے اس نے انڈیپینڈنٹ گریکس کو ساتھ ملانے کا فیصلہ کیا ہے اور انھوں نے حکومت سازی میں سیریزا کا ساتھ دینے پر آمادگی بھی ظاہر کر دی ہے۔

رواں سال جنوری میں ہونے والے الیکشن میں سیریزا پارٹی نے 149 نشستیں لی تھیں اور اس وقت بھی وہ اپنے بل بوتے پر حکومت نہیں بنا پائی تھی۔

نیو ڈیموکریسی پارٹی کے رہنما وینجیلس میماراکس نے کہا ہے کہ ’انتخابی نتائج سے لگ رہا ہے کہ سیریزا اور تسیپراس کو ہی سبقت ملے گی۔ میں انھیں مبارکباد دیتا ہوں اور ان پر زور ڈالتا ہوں کہ وہ حکومت تشکیل دیں جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔‘

الیکسس تسیپراس نے کہا ہے کہ یونانی عوام کے لیے ’محنت اور جدوجہد‘ کا وقت آنے والا ہے۔

یونان میں موجودہ الیکشن رواں برس اگست میں سیریزا پارٹی کی ہی حکومت کے پارلیمان میں اکثریت کھونے کے بعد منعقد ہوئے ہیں۔

ایتھنز میں بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گیلپن کا کہنا ہے کہ انڈیپینڈنٹ گریکس کو ساتھ ملا کر سیریزا پارٹی اکثریت میں تو آ جائے گی لیکن اسے حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے کسی بڑی جماعت کو ساتھ ملانا پڑے گا۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سیریزا کی یہ فتح اندازوں سے کہیں بڑی فتح ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیل آؤٹ پیکج میں معاشی اصلاحات جیسے اقدامات شامل ہیں جن کی مخالفت کرنے کا سیریزا نے وعدہ کیا تھا

یورپی رہنماؤں کے ساتھ بیل آؤٹ معاہدے پر رضامندی کے بعد سے سیریزا کے قائد ایلکس تسیپراس کی شہرت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

اس بیل آؤٹ پیکج میں معاشی اصلاحات جیسے اقدامات شامل ہیں جن کی مخالفت کرنے کا سیریزا نے وعدہ کیا تھا۔

انھوں نے اس معاملے پر ریفرینڈم بھی کروایا جس میں 60 فیصد سے زیادہ ووٹروں نے کفایت شعاری کے اقدامات کی مخالفت کی تھی لیکن اس کے باوجود انھیں معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنی پڑی کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یونان کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ تھا۔

یونان اب بھی شدید معاشی بحران کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور اتوار کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد تسیپراس کو مزید سخت اقتصادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔

انتخابات سے قبل دیے گئے انٹرویوز میں تسیپراس کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہمیشہ اپنے ملک کو اپنی جماعت پر ترجیح دی ہے۔اگر وہ تین سالہ بیل آؤٹ کے لیے رضامند نہ ہوتے تو یونان کے یورو زون سے نکل جانے کے کافی امکانات موجود تھے۔

اسی بارے میں