برکینافاسو کے انقلابی رہنما نے الٹی میٹم نظرانداز کر دیا

مظاہرین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج نے ممکنہ جھڑپوں کے پیش نظر بدعنوانی مخالف مظاہرین سے گھر جانے کی اپیل کی ہے

افریقی ملک بُرکینا فاسو میں انقلابی رہنما نے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے الٹی میٹم کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حملہ کیا گیا تو ان کی حامی سکیورٹی فورسز جوابی کارروائی کریں گی۔

ملک کے فوجی سربراہان نے جنرل گِلبرٹ ڈائنڈیری کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح کے دس بجے تک کا وقت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں ورنہ ان پر حملہ کر دیا جائے گا۔

فوج نے ممکنہ جھڑپوں کے پیش نظر دارالحکومت اواگاڈوگو میں بدعنوانی مخالف مظاہرین کو گھر چلے جانے کا کہا ہے۔

جنرل ڈائنڈیری گذشتہ ہفتے حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہوگئے تھے۔ انھیں صدارتی محافظوں کی حمایت حاصل ہے۔

تاہم فوجی قیادت اب بھی معزول حکومت کی وفادار ہے، اور فوجیوں کو دارالحکومت پر قبضے کا حکم دیا گیا ہے۔

یورپی یونین نے خونریزی سے بچنے کے لیے صدارتی محافظوں سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی ہے۔

ادھر علاقائی رہنما نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں ہنگامی ملاقات کر رہے ہیں تاکہ اس سابق فرانسیسی نوآبادی میں قیام امن کے منصوبے پر بات چیت کی جائے۔

گذشتہ ہفتے آنے والے انقلاب کے بعد سے مظاہرین اور صدارتی محافظوں کے مابین جھڑپوں میں کم سے کم دس افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں