پناہ گزینوں کے کوٹے پر اختلافات کے خاتمے کی کوشش

Image caption نئے قانون کے تحت ہنگری کی فوج سرحد پر پناہ گزینوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس اور نیٹ گنز کا استعمال کر سکے گی

یورپی یونین کے وزرا آج برسلز میں ہونے والی ملاقات میں اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے کہ یورپ پہنچنے والے ایک لاکھ 20 ہزار پناہ گزینوں کو کس طرح دوبارہ سے بسایا جائے۔

وسطی یورپی ممالک نے زور دیا ہے کہ یورپی یونین کے 22 ممبران پناہ گزینوں کے لیے لازمی کوٹا سسٹم کو قبول کریں۔

ہنگری اس مسئلے پر سخت موقف رکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے یورپ کی سرحدیں خطرے میں ہیں۔

حالیہ بحران کی وجہ سے یورپی ممالک کے درمیان گہرے اختلافات سامنے آئے ہیں۔

برسلز میں منگل کو وزرائے داخلہ کے اجلاس میں اس بات کی امید کی جا رہی ہے کہ حکام بدھ کے روز ہونے والے یورپی یونین کے رہنماؤں کے ہنگامی اجلاس سے قبل اتفاق رائے قائم کر لیں گے۔

پیر کو ہنگری ، پولینڈ، دی چیک رپبلک اور سلوواکیہ کے درمیان بات چیت کے بعد دی چیک رپبلک کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ چاروں اب بھی مسئلے کے حل کے لیے ’بالکل مخلص‘ ہیں۔ اجلاس میں تمام ممالک نے کوٹا سسٹم کی مخالفت کی تھی۔

نئے قانون کے تحت ہنگری کی فوج سرحد پر پناہ گزینوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس اور نیٹ گنز کا استعمال کر سکے گی۔

ہنگری کی پارلیمان کے فوج کو زیادہ اختیارات دینے کے فیصلے سے کچھ دیر قبل اوربان نے کہا کہ ’وہ (پناہ گزین) ہم پر قبضہ کر رہے ہیں۔

Image caption اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے یورپی یونین کے رہنماؤں سے پناہ گزینوں کے لیے رحم کی اپیل کی ہے

’وہ صرف دروازہ نہیں کھٹکھٹا رہے بلکہ وہ ہمارے اوپر دروازے توڑ رہے ہیں۔ ہماری سرحدوں کو خطرہ ہے۔ ہنگری خطرے میں ہے اور اس کے ساتھ ہی پورا یورپ۔‘

اِن کے اس سخت موقف پر اِنھیں یورپ کے دیگر ممالک کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

پیر کی شام کو کروئیشیا میں اوپاٹواک کے ایک عارضی کیمپ میں غصے کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ کروئیشیا پناہ گزینوں کی اہم گزرگاہ ہے۔

وہاں موجود بی بی سی کی ٹیم کے مطابق کیمپ میں جھڑپوں کے بعد پولیس ایک مقام سے اندر داخل ہوئی اور واقعے میں کم سے کم ایک شخص زخمی ہوا۔

بلقان میں سفر کرنے والے زیادہ تر پناہ گزین شمال کی جانب سے جرمنی اور سکینڈی نیویا کا راستہ اختیار کررہے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے یورپی یونین کے رہنماؤں سے پناہ گزینوں کے لیے رحم کی اپیل کی ہے۔

بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ یورپ میں پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو درپیش صورتِ حال کے بارے میں فکر مند ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہنگری میں پناہ گزینوں کا احتجاج

یونان کے نو منتخب وزیر اعظم الیکس تسیپراس نے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد کہا ہے کہ جب تک ذمہ داریاں تقسیم نہیں کی جائیں گی ’متحدہ یورپ کے بارے میں بات کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘

ان کے ملک نے ہزاروں پناہ گزین کو جگہ دی ہے جس میں سے زیادہ تر شام کی خانہ جنگی کے ستائے ہوئے ہیں۔ تاہم ممکنہ طوفان کے پیش نظر پیر کو یونان پہنچنے والی کشتیوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کروئیشیا نے اس ہفتے ہونے والے اجلاس میں یونان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو یورپ کے باقی حصوں میں جانے سے روکے۔

اسی بارے میں