اغواکاری کی مشین

سٹیون سوٹلوف تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سٹیون سوٹلوف کو اغوا کرنے کے تقریباً ایک برس کے بعد ستمبر 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے کو ہلاک کرنے کی ویڈیو جاری کی تھی

امریکہ کے ایک خفیہ ادارے کے اندازوں کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ برس اغوا اور لوگوں کو یرغمال بنا کر تقریباً ڈھائی کروڑ ڈالر کی رقم کمائی ہے۔

اغوا کرنے کا یہ کاروبار پروپیگنڈے کے لیے بھی بہت طاقتور ہتھیار ہے۔ اور یہ کاروبار جاسوسوں، مخبروں، اغواکاروں، جیل کے رکھوالوں اور ایسے مذاکرات کاروں سے چلتا ہے جو مغویوں کی رہائی کے وقت معاہدہ کرواتے ہیں۔

شام کے صحافی عمر المقدود بعض ایسے ہی افراد سے ملاقات کے لیے گئے جو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

دو برس قبل امریکی صحافی سٹیون سوٹلوف امریکہ میں میرے گھر آئے اور کہا کہ وہ شام جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ میں نے انھیں اس سے باز رہنے کا مشورہ دیا لیکن انھوں نے میری ایک نہ سنی۔

تین دن بعد ہی انھوں نے مجھے حلب سے رابطوں میں مدد کے لیے ایک ای میل بھیجی۔ پھر اس کے فورا بعد ہی انھیں اغوا کر لیا گیا۔

یوسف ابو بکر، جو سوٹلوف کی مدد کے لیے ان کے ساتھ سفر کر رہے تھے، کہتے ہیں: ’تین کاریں تھیں۔ میں نے تقریباً پانچ سو میٹر کے فاصلے سے انھیں دیکھا۔ جیسے ہی ان لوگوں نے ہمیں دیکھا وہ کار سے بار نکل آئے اور ہمارا راستہ مسدود کر دیا۔ میں اپنے ہتھیار نکال کر ان پر نشانہ لگانا چاہتا تھا لیکن وہ دس پندرہ مسلح لوگ تھے۔ ان کے پاس کلاشنکوفیں بھی تھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی صحافی جیمز فولی کو بھی دولتِ اسلامیہ نے اغوا کیا تھا اور سوٹلوف کی طرح انھیں بھی ہلاک کرنے کی ویڈیو سامنے آئی تھی

پھر کیا تھا ابو بکر اور سوٹلوف کو جدا جدا کر دیا گیا۔ ابو بکر کہتے ہیں: ’میں نے ان کے لیے آواز بلند کرنے کی کوشش کی لیکن وہ مجھے خاموش رہنے کو کہتے رہے۔‘ پھر شام میں فری سیریئن آرمی سے روابط کی وجہ سے ابوبکر کو 15دن کے بعد رہا کر دیا گیا۔

لیکن اس کے تقریبا ایک برس کے بعد ستمبر 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے سوٹلوف کو ہلاک کرنے کی ویڈیو جاری کی۔اس کے بعد ہی ایک اور امریکی صحافی جیمز فولی کو بھی اسی طرح کی صورت حال میں ہلاک کرنے کی ویڈیو سامنے آئی۔

’رپوٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ نامی تنظیم کے مطابق سنہ 2011 سے شام میں اب تک تقریباً 181 صحافیوں اور بلاگروں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ کم سے 29 افراد، بشمول نو بیرونی شہریوں کے، یا تو اب بھی گم ہیں یا پھر دولتِ اسلامیہ یا کسی دوسری شدت پسند تنظیموں نے انھیں یرغمال بنا رکھا ہے۔

ترکی کی سرحد کے قریبی شہر انطاکیہ میں میری ملاقات شام کے ایک شخص ابوہریرہ سے ہوئی، جو دولتِ اسلامیہ کے سابق ایجنٹ تھے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ میڈیا میں کام کرنے والے ان افراد کی سراغ رسانی کا کام کیا کرتے تھے جو اس متنازع خطے میں کام کر رہے ہوں اور پھر وہ ان کے اغوا کرنے میں مدد کرتے تھے۔

ان کے مطابق وہ شام کی پناہ گزین ہونے کا بہانہ کرتے اور کہتے کہ وہ مقامی صحافیوں سے انھیں متعارف کرائیں گے۔ چند ملاقاتوں کے بعد ہی وہ کہتے ہیں: ’وہاں بچے ہیں اور ہم وہاں فلم سازی کے لیے جا رہے ہیں اور وہاں آپ کو بعض ایسے افراد سے متعارف کرائیں گے جو آپ کے کام میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔‘ وہ اس طرح کا وعدہ کیا کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sedat Suna EPA
Image caption شام سے متصل سرحد کے کسی بھی شہر میں جب کوئی بیرونی صحافی کوریج کے لیے آتا ہے تو اغواکار اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیتے ہیں

اور پھر اغواکاروں کو وہ اپنے منصوبے کے تفصیلات بتا دیتے۔ ’میں ان کے ساتھ مل کر ہر چیز کا اہتمام کر دیا کرتا تھا۔ بس مجھے اس شخص کو وہاں تک پہنچانا ہوتا تھا اور پھر وہ کسی کے قبضے میں ہو جاتے اس کے بعد میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں رہتا تھا۔ کئی بار وہ ساتھ میں ہمیں بھی یرغمال بنا لیتے پھر کچھ دیر بعد مجھے رہا کر دیتے۔‘

شام کے تنازعے کے ابتدائی مراحل میں ابو ہریرہ فری سیریئن آرمی کے رکن تھے۔ پھر انھوں نے کچھ دنوں تک ایک ایسی مقامی تنظیم کے ساتھ کام کیا جو القاعدہ سے وابستہ تھی۔ اس کے بعد دولتِ اسلامیہ کے لیے کام شروع کیا۔ وہ مجھ سے صرف اس لیے ملنے پر راضی ہوئے کیونکہ انھوں نے دولتِ اسلامیہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

ان حرکتوں سے باز آنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب ان سے انھی ایک دوست کو اغوا کروانے کو کہا گیا۔ ’میں اپنے دوست کو تو نہیں کھو سکتا تھا ورنہ میں اس کا ذمہ دار ہوتا۔ میں نے اس سے کہا کہ چونکہ وہ لوگ اس کے پیچھے پڑ چکے ہیں اس لیے وہ اس علاقے کو یا پھر ملک کو چھوڑ کر چلا جائے۔ وہ تمھیں چاہتے ہیں اور ایسے لوگوں کو کوئی عذر پیش نہیں کیا جا سکتا۔‘

بعد میں میں نے ابوہریرہ کے اس دوست سے رابطہ کیا تو اس نے ان باتوں کی تصدیق کی۔

Image caption میلاد الشہابی کو دولتِ اسلامیہ کی زیادتیوں پر رپورٹنگ کرنے پر اغوا کر لیا گیا تھا، کیونکہ وہ ان سے انت‍قام لینا چاہتے تھے

ابوہریرہ نے مجھے یرغمالیوں کی تصویریں اور پیغامات دکھائے اور بات چیت کی وہ ریکارڈنگ بھی سنوائی جو اس نے رقہ صوبے میں دولتِ اسلامیہ کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر منصوبہ سازی کی تھی اور بتایا کہ کتنے منصوبہ بند طریقے سے اغوا کا کاروبار کیا جاتا ہے۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ انھی کی طرح بہت سے لوگ ہیں جو پیسوں کے لیے یا پھر نظریاتی ہم خیال ہونے کے سبب دولتِ اسلامیہ کے لیے مخبری کا کام کرنا چاہتے ہیں۔

ابوہریرہ کہتے ہیں کہ اغوا کرنے کے مقصد سے دولتِ اسلامیہ کے پاس ایک باقا‏عدہ محکمہ ہے جو صرف یہی کام انجام دیتا ہے۔ وہ بیرونی صحافیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور جیسے ہی وہ شام کی سرحد سے متصل کسی شہر میں پاؤں رکھتے ہیں ان کا پیچھا شروع کر دیتے ہیں۔

اس طرح دولتِ اسلامیہ نے صرف گذشتہ برس تقریبا ڈھائی کروڑ ڈالر لوگوں کو اغوا کر کے کمائے ہیں۔

لیکن کئی بار دولتِ اسلامیہ لوگوں کو پیسوں کے لیے نہیں بلکہ سزا دینے کے لیے بھی اغوا کرتی ہے۔

گذشتہ برس جنوری میں شامی صحافی میلاد الشہابی کے حلب کے دفتر میں بعض نقاب پوش گھس آئے۔ بظاہر وہ ان کی زیادتیوں سے متعلق کی جانے والی رپورٹنگ کا ان سے انت‍قام لینا چاہتے تھے۔ ان کے دفتر کا تمام ساز و سامان توڑ دیا گیا اور الشہاب کو اغوا کر لیا گيا۔

انھیں تین روز تک قید تنہائی میں رکھا گيا۔ وہ بتاتے ہیں: ’میری آنکھوں پر دس دن تک پٹی باندھ دی گئی تھی اور ہاتھ میں ہتھکڑیاں ڈال دی گئی تھیں اور میں نماز بھی اسی حالت میں پڑھتا تھا۔‘

اسی طرح اغوا کی بعض کارروائیاں پرپیگنڈے کے لیے کی جاتی ہیں۔ مجھے صرف اغوا کی ان کارروائیوں اور بہیمانہ ہلاکتوں پر ہی افسوس نہیں ہے بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ عام شامی شہریوں کو بھی اس قدر بدعنوان کر دیا گیا ہے کہ کبھی آپس میں ایک دوسرے کے دوست رہنے والے اب ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں۔

اسی بارے میں