بیرونی تاجروں کے لیے چین کے دروازے کھلے ہیں: چینی صدر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صنعتی و تجارتی سربراہان کے ساتھ ایک عشائیہ میں بات کرتے ہوئے چین کے صدر نے کہا کہ عالمی تجارت کو استحکام بخشناان کی پہلی ترجیح ہے

چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی تاجر سربراہان کو اس بات کی یقین دہانی کرائي ہے کہ اپنی برآمدات بڑھانے کے لیے چین اپنی کرنسی سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرے گا۔

چینی صدر آج کل امریکہ کے دورہ پر ہیں جہاں وہ اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

ریاست واشنگٹن کے شہر سیئٹیل میں چین کی اقتصادی اصلاحات اور سائبر جرائم جیسے موضوعات پر بات کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ چين ہیکنگ میں قطعی ملوث نہیں ہے لیکن اس مسئلے کی تفتیش پر وہ امریکہ کے ساتھ تعاون کرے گا۔

حالیہ برسوں میں چین کی اقتصادی پالیسیاں اور سائبر ہیکنگ جیسے مسائل دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بنے ہیں۔

صنعتی و تجارتی سربراہان کے ساتھ ایک عشائیے میں بات کرتے ہوئے چین کے صدر نے کہا: ’عالمی تجارت کو استحکام بخشنا پہلی ترجیح ہے۔ چین باہری دنیا کے لیے اپنے دروازے کبھی نہیں بند کرے گا۔‘

ان سے جب چین پر امریکہ کے اس الزام کے متعلق پوچھا گیا کہ اُس نے کئی امریکی اداروں کی ویب سائٹوں، نجی کمپنیوں اور لاکھوں سرکاری ملازمین کے اکاؤنٹ ہیک کیے ہیں، تو انھوں نے کہا کہ بیجنگ اس میں ملوث نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر بارک اوباما چینی صدر سے اپنی ملاقات کے دوران معاشی اصلاحات اور سائبر حملوں کا ذکر کریں گے

ان کا کہنا تھا کہ سائبر چوری ایک جرم ہے اور مجرموں کو اس کی سزا ملنی چاہیے۔ ’چین کی حکومت کسی بھی طرح کی تجارتی چوری نہیں کرے گي اور نہ ہی وہ ایسے کسی شخص کی حمایت کرے گي جو ایسا کرنے کی کوشش کرے گا۔‘

ان کے امریکہ دورے سے قبل ہی امریکی تاجروں نے چین میں امریکی کمپنیوں کو درپیش مسائل اور بگڑتی معاشی صورت حال جیسے پہلوؤں پر زور دیا تھا۔‘

چین کی معیشت، جو حالیہ برسوں میں بڑی تیزی سے ترقی کر رہی تھی، اب سست روی کا شکار ہوتی جا رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اشیا کی مانگ میں کمی کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔

جمعہ 25 ستمبر کو چینی صدر وائٹ ہاؤس میں عشائيے پر مدعو ہیں جبکہ 28 ستمبر کو وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

اسی بارے میں