یمنی صدر چھ ماہ بعد وطن لوٹ آئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی حوثی باغیوں کی پیش قدمی کے سبب گذشتہ مارچ سعودی عرب چلے گئے تھے

یمن کے صدر منصور ہادی چھ ماہ تک بیرونِ ملک رہنے کے بعد عدن واپس لوٹ آئے ہیں۔

ایئر پورٹ کے حکام نے ان کی واپسی کی تصدیق کی ہے۔

یمن کی بھولی ہوئی جنگ

پناہ گزینوں کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب

حکومتی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کے لیے نیویارک روانہ ہونے سے پہلے عیدالاضحیٰ عدن ہی میں منائیں گے۔

وہ رواں سال مارچ میں حوثی باغیوں کی عدن کی طرف پیش قدمی شروع ہونے کے بعد ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک کے اتحاد نے یمن پر بمباری شروع کی تھی۔

یمنی صدر کی واپسی سے پہلے ہی ایئرپورٹ کی سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق مسٹر ہادی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گيا ہے: ’ صدر چھ ماہ کے وقفے کی غیرحاضری کے بعد واپس آئے ہیں جس کے دوران حوثی اور صالح کی حامی ملیشیا نے عدن شہر میں ظالمانہ جارحیت جاری رکھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کے لیے نیو یارک روانہ ہونے سے پہلے وہ عیدالاضحی کا تیہوار عدن میں ہی منائیں گے

توقع ہے کہ صدر آنے والے دنوں میں اپنی کابینہ کے ارکان، مقامی حکام اور فوجی اور سلامتی امور کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

یمن کے وزیراعظم خالد باہا گذشتہ ہفتے اپنے سات وزرا کے ساتھ عدن واپس آئے تھے۔

جولائی میں حکومت کی حامی ملیشیا اور فوجیوں نے اتحادی فوج کی مدد سے حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حامی فوج کو عدن سے پیچھے دھکیل دیا تھا۔

تاہم مقامی لوگوں کو شکایت ہے کہ عدن اب بدنظمی اور لاقانونیت کا شکار ہو چکا ہے جہاں القاعدہ یا دولتِ اسلامیہ سے منسلک جہادی شدت پسند گلیوں میں کھلے عام دیکھے جا سکتے ہیں اور مقامی انتظامیہ سہولیات بحال کرنے میں سست روی کا شکار ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 26 مارچ کو یمن پر اتحادی فورسز کی بمباری کے بعد سے اب تک 4900 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 2002 عام شہری ہیں۔

ادھر سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یمن میں اس کے دو فوجی لاپتہ ہیں۔

اسی بارے میں