یورپی یونین اقوامِ متحدہ کو شامی مہاجرین کے لیے اضافی امداد دے گی

Image caption یورپ میں رواں سال اب تک 10 لاکھ تارکینِ وطن پہنچ چکے ہیں

برسلز میں یورپی یونین کے ہنگامی اجلاس میں شامی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کو ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی اضافی امداد فراہم کرنے کا فصیلہ کیا گیا ہے۔

تارکینِ وطن کے لیے مختص کوٹہ

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ نے حالیہ عرصے میں یورپ میں داخل ہونے والے ایک لاکھ 20 ہزار پناہ گزینوں کی آباد کاری کے معاہدے پر کثرتِ رائے سے رضا مندی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم منگل کو ہنگامی اجلاس میں ابتدا میں بہت سے اختلافات برقرار نظر آئے۔

یورپی یونین نے شام کے ہمسایہ ممالک تک بھی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک سمجھتے ہیں کہ تارکینِ وطن کی سب سے بڑی تعداد آنا ابھی باقی ہے۔

یورپ میں رواں سال اب تک 10 لاکھ تارکینِ وطن پہنچ چکے ہیں جبکہ متعلقہ ممالک میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر شدید تحفظات سامنے آئے۔

مگر یورپی کمیشن کے صدر جین کلاڈ ینکر مذاکرات کو ’بہترین‘ اور توقع سے زیادہ اچھا قرار دے رہے ہیں

کیا طے پایا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
  • اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور عالمی ادارہ خوراک کو ایک اعشاریہ ایک ارب کی اضافی امداد دی جائے گی۔

  • لبنان، اردن، ترکی اور دیگر ممالک کی مزید معاونت کی جائے گی۔

  • ترکی کے ساتھ مزید تعاون کیا جائے گا۔

  • بلقان کو مدد فراہم کی جائے گی جو شمال کی جانب سفر کرنے والے پناہ گزینوں کی اہم گذر گاہ ہے۔

  • سرحدوی کنٹرول کو مضبوط کیا جائے۔

یورپین کاؤنسل کے صدر نے کہا کہ تقریباً 40 لاکھ شامی باشندوں نے ہمسایہ ممالک کی جانب ہجرت کی ہے جن میں سے ممکنہ طور پر لاکھوں یورپ جانے کے لیے کوشاں ہیں، یہ تعداد افغانستان، عراق اور دیگر ممالک کے تارکینِ وطن کے علاوہ ہے۔

یورپی رہنماؤں نے اپنی سرحدوں پر نئے آنے والوں کے لیے ’ہاٹ سپاٹ‘ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ حالیہ اتفاقِ رائے سے بحران ختم نہیں ہو گا تاہم یہ درست سمت جانے کے لیے تمام ضروری اقدامات ہیں۔

جرمنی جہاں سب سے زیادہ تارکینِ وطن موجود ہیںکی چانسلر آنگیلا میرکل نے ہنگامی اجلاس کو تسلی بخش قرار دیا۔ انھوں نے شامی صدر بشارالاسد کو ملک میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے نئے سرے سے سفارتی کوشش کرنے کو کہا۔

اسی بارے میں