’یورپ میں روزانہ آٹھ ہزار تارکین وطن پہنچ رہے ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ روزانہ تقریباً آٹھ ہزار شامی اور عراقی پناہ گزینوں کی یورپ آمد کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

یہ اعداد وشمار اقوامِ متحدہ کے علاقائی کوآرڈینیٹر امین اواد نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے بتائے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یونان میں روزانہ پانچ ہزار سے زیادہ پناگزین پہنچ رہے ہیں۔

تارکینِ وطن کے بین الاقومی ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگر سرحد کھلی رہی اور موسم اچھا رہا تو سردیوں میں بھی لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہے گا۔

پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کا بحران

پناہ گزینوں کے بحران کا حل کیا؟

واضع رہے کہ رواں برس شام اور دیگر شورش زدہ علاقوں سے یورپ میں اب تک تقریباً پانچ لاکھ تارکینِ وطن پہنچ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تارکینِ وطن کی اکثریت جرمنی جانے کی خواہاں ہے

ان تاکین وطن کو یورپ کے مختلف ممالک میں آباد کرنے کے حوالے سے اگرچہ یورپی یونین کے ملکوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن رواں ہفتے یورپی وزراء کے ایک اجلاس میں 120,000 تارکینِ وطن یورپ بھر میں آباد کرنے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔

شام، عراق اور اریٹیریا سے تعلق رکھنے والے ان پناہ گزینوں کو یونان اور اٹلی سے دیگر ممالک منتقل کیا جائے گا تاکہ وہاں موجود پہنچنے والے تارکینِ وطن کے قائم کیمپوں پر دباؤ کم ہو سکے۔

واضح رہے کہ کچھ یورپی ممالک نے تارکینِ وطن کو مختلف ممالک میں آباد کرنے کے منصوبے کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔

ان ممالک میں ہنگری، رومانیہ، جمہوریہ چیک اور سلوواکیہ شامل ہیں۔

جمعرات کو ہی برسلز میں یورپی یونین کے ہنگامی اجلاس میں شامی مہاجرین کے لیے اقوامِ متحدہ کو ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی اضافی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

یہ ممالک تارکینِ وطن کو آباد کرنے کے لازمی کوٹے کے مخالف ہیں اور ان کا موقف ہے کہ وہ غیر یورپی تارکینِ وطن کو اپنے معاشروں میں ضم کرنے کی مہارت نہیں رکھتے۔

تارکینِ وطن کی اکثریت جرمنی جانے کی خواہاں ہے اور ایک اندازے کے مطابق رواں برس تقریباً آٹھ لاکھ تارکینِ وطن جرمنی پہنچیں گے۔

اسی بارے میں