’سعودی عرب واقعے کی ذمہ داری قبول کرے اور معافی مانگے‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption ادھر اُدھر الزام تراشیاں کرنے کے بجائے، سعودی عرب کو ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور مسلمانوں اور متاثرہ خاندانوں سے معافی مانگنی چاہیے: خامنہ ای

ایران کی جانب سے حج کے دوران منیٰ میں پیش آنے والے حادثے پر سعودی عرب پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایک بار پھر سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واقعے کی ذمہ داری قبول کرے اور معافی مانگے۔

اس حادثے میں سعودی حکام نے 769 ہلاکتوں اور 934 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان میں سے 140 سے زائد افراد کا تعلق ایران سے ہے۔

’منیٰ جیسے واقعات انسانی اختیار سے باہر ہیں‘

منیٰ میں پاکستانی ہلاکتیں 18 ہوگئیں

آیت اللہ خامنہ ای نے اتوار کو تہران میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بھلایا نہیں جائے گا اور اقوام اس کو سنجیدگی سے دیکھیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ادھر اُدھر الزام تراشیاں کرنے کے بجائے، سعودی عرب کو ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور مسلمانوں اور متاثرہ خاندانوں سے معافی مانگنی چاہیے۔‘

اس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سعودی عرب میں حج کے دوران پیش آنے والے بھگڈر کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے بھگدڑ کے واقعے کو ’دل دہلا دینے والا‘ قرار دیا۔

سنیچر کو ایران کے پراسیکیوٹر جنرل سید ابراہیمر رئیسی نے سرکاری ٹی وی پر بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کوشش کرے گا کہ سعودی شاہی خاندان کے جرائم کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

تاہم دوسری جانب سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ایران ایک حادثے پر سیاست کر رہا ہے۔

سعودی وزیرِ خارجہ جو اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ میں امید کرتا ہوں کہ ایرانی قیادت ہلاک ہونے والوں کی خاطر عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوے تحقیقات کے نتائج آنے کا انتظار کرے گی۔‘

خیال رہے کہ اس حادثے کے بعد سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے حاجیوں کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے انتظامات پر نظرثانی کا حکم دیا ہے تاہم سعودی عرب کے مفتی اعظم نے کہا ہے کہ یہ ایسا حادثہ تھا جسے روکنا انسانی اختیار سے باہر تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حج کے دوران بھگدڑ مچنے سے ہلاکتوں کے بعد ایران میں سعودی حکومت کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں

اسی بارے میں