ایم کیو ایم کا کھالیں جمع کرنے کا کام روکنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کراچی میں امن قائم کرنے کے لیے ستمبر 2013 میں پولیس اور رینجرز کا مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا گیا تھا جو آج بھی جاری ہے

کراچی میں رینجرز کی جانب سے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو مبینہ طور پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے سےروکنے پر احتجاج کرتے ہوئے ایم کیو ایم نے کھالیں جمع کرنے کا کام روکنے کا اعلان کیا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے آج ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ رینجرز کی جانب سے ان کی جماعت کی جمع کردہ کھالوں کے ٹرک قبضے میں لے لیے گئے ہیں اس لیے مجبور ہوکر وہ خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کا کھالیں جمع کرنے کا آپریشن بند کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کھالیں جمع کرنے کے 26 کلیکشن پوائنٹس تھے مگر کہیں سے بھی کوئی شکایت نہیں ملی مگر جب کھالیں ٹرک میں ڈال کر طارق گراؤنڈ میں واقع ڈمپنگ پوائنٹ پر لائی جا رہیں ہوتی تھیں تو رینجرز کی جانب سے انھیں قبضے میں لے لیا جاتا۔

فاروق ستار نے اس الزام کو رد کیا کہ ان کے کارکنان کھالیں جبری طور پر جمع کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ رینجرز نے ان کے درجنوں کارکنان کو گرفتار کیا ہے اور وہ کھالیں جو عوام نے رضا کارانہ طور پر دی تھیں انھیں بھی قبضے میں لے کر دیگر تنظیموں میں بانٹ دیا ہے جن میں اُن کے خدشے کے مطابق کچھ کالعدم جماعتیں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔

فاروق ستار کے مطابق کراچی کے کمشنر کی جانب سے جاری کردہ اجازت نامہ خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کے تمام ڈرائیورز کے پاس موجود تھا پھر بھی انھیں گرفتار کرکے گاڑیاں قبضے میں لےلی گئیں۔

انھوں نے پاک کے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے درخواست کی کہ وہ کراچی آکر یہاں کی صورتِ حال کا جائزہ لیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ انھیں یوں محسوس ہاتا ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کو دیوار سے لگا کر اس کی جگہ دہشت گرد کالعدم تنظیموں کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ تاہم انھوں نے واضع کیا کہ یہ ان کے خدشات ہیں اور وہ کسی پر الزام نہیں لگا رہے ہیں۔

فاروق ستار کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت اس سال پچاس فیصد کم کھالیں جمع ہوئی ہیں اور اگر یہی حال رہا تو انھیں اپنے فلاحی کام بند کرنے پڑیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کراچی کو دہشت گردی سے نجات دلانے کی حامی ہے۔

یاد رہے کہ جمعے کو رینجرز نے کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک کارروائی کے دوران ایک مبینہ ٹارگٹ کلر محمد ریحان حسین عرف بہاری کوگرفتار کرنے کا دعوٰی کیاہے۔

رینجرز کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق جمعے کو گرفتار کیا گیا ملزم متحدہ قومی موومنٹ کا سرجانی ٹاؤن کا سیکٹر انچارج ہے اور اس نے ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور قربانی کے جانوروں کی کھالیں چھیننے کے مختلف واقعات میں ملوث ہونے کا مبینہ طور پراعتراف کیا ہے۔ .

پریس ریلیز کے مطابق گرفتار ملزم سرجانی ٹاؤن میں ٹارگٹ کلرز کی ایک ٹیم چلا رہا تھا، جس نے کئی پولیس اہلکاروں اور مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کوقتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

رینجرز کی پریس ریلیز میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ ملزم جبراً چندہ جمع کرنے، قربانی کے جانوروں کی کھالیں چھیننے اور زمینوں پر قبضے میں بھی ملوث ہے۔

کراچی میں امن قائم کرنے کے لیے ستمبر 2013 میں پولیس اور رینجرز کا مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا گیا تھا جو آج بھی جاری ہے۔

اسی بارے میں