منیٰ میں بھگدڑ سے مرنے والوں تعداد 769 ہوگئی

Image caption یہ گزشتہ 25 سالوں میں حج کے دوران ہونے پیش آنے والا سب زیادہ جان لیوا حادثہ ہے

سعودی عرب کے وزیرِ صحت خالد الفلحی کا کہنا ہے کہ حج کے دوران بھگدڑ سے مرنے والوں کی تعداد 769 ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوے خالد الفلحی نے کہا کہ اس حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 934 تک پہنچ چکی ہے۔

منیٰ کے مقام پر جعمرات کو پیش آنے والے اس حادثے کے بعد ابتدائی طور پر سعودی حکام نے 717 ہلاکتوں اور 863 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

لاشوں کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے اور سعودی حکام کی جانب سے ہلاک شدگان اور زحمیوں کی حتمی فہرست ابھی جاری نہیں کی گئی ہے۔

اگرچہ سعودی حکام کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مرنے یا زحمی ہونے والوں کا تعلق کن ممالک سے ہے تاہم مختلف ممالک کی جانب سے اپنے شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

اب تک جن 250 افرادکی موت کت تصدیق کی گئی ہے ان میں سے زیادہ تر کا تعلق ایشیائی اور افریقی ممالک سے ہے۔

اب تک سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق بھگدڑ کے باعث مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد ایرانی شہریوں کی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق ان کے 131 شہری اس واقعے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں مراکش کے شہریوں کی ہوئی ہیں جن کی تعداد 87 ہے۔

بھارت نے اپنے 14 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

اس سانحے میں اب تک ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد 11 ہے۔

یہ گزشتہ 25 سالوں میں حج کے دوران ہونے پیش آنے والا سب زیادہ جان لیوا حادثہ ہے۔

یاد رہے کہ یہ رواں برس سعودی عرب میں حاجیوں کی آمد کے بعد پیش آنے والا دوسرا بڑا حادثہ ہے۔ اس سے قبل 12 ستمبر کومکہ کی مسجد الحرام کے صحن میں کرین گرنے سے کم از کم 107 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں