شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فرانس کے فضائی حملے

Image caption فرانس نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی سے قبل دو ہفتے تک شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کا پتہ لگانے کے لیے جاسوسی بھی کی

فرانس کا کہنا ہے کہ اس نے شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کے دفتر سے اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان کی فضائیہ نے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جن کی نشاندہی گذشتہ دو ہفتوں کے دوران جاسوسی کے دوران کی گئی تھی۔

دولتِ اسلامیہ میں بھرتی کیسے روکی جائے؟

بیان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ ’داعش کو نشانہ بنا کر ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہمارا ملک دہشت گردی کے خطرے کے خلاف جنگ میں پر عزم ہے۔ جب بھی ہماری قومی سلامتی کو خطرہ ہو گا تو ہم کارروائی کریں گے۔‘

فرانسیس صدر کے مختصر بیان میں شام کے بحران کے حل کے لیے عالمی طاقتوں سے ایسے حل کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جو شہریوں کو ہر قسم کے تشدد سے محفوظ رکھے۔

خیال رہے کہ فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے رواں ماہ کے آغاز میں اپنی فوج کو شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں کی تیاری کا حکم دیا تھا۔

تاہم انھوں نے زمینی فوج بھجوانے کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔

حالیہ کارروائی سے قبل فرانس بھی برطانیہ کی طرح صرف عراق میں ہی دولتِ اسلامیہ کو نشانہ بناتا آیا ہے۔

رواں ماہ برطانیہ کی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک کی فضائیہ نے ڈرون کے ذریعے شامی حدود کے اند ایک کارروائی کر کے دولتِ اسلامیہ کے لیے لڑنے والے دو برطانوی شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کی سربراہی میں قائم فوجی اتحاد گزشتہ ایک سال سے شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی کر رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شام کی خانہ جنگی میں دو لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس دوران 90 لاکھ سے زائد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں