’مردہ خاتون‘ 31 سال بعد مل گئیں

Image caption انھوں نے اپنی گمشدگی اور واپس نہ آنے کے پسِ منظر سے متعلق بہت کم تفصیلات پولیس کو بتائی ہیں

جرمنی کی پولیس کے مطابق 1984 میں غائب ہو جانے والی خاتون جن کے قتل کی تحقیقات بھی شروع کردی گئی تھیں جرمنی کے شہر ڈسلوڈورف میں زندہ اور بہت اچھی زندگی گزار رہی ہیں۔

24 سالہ پیٹرا پاسٹیکا کو اپنے کالج کی رہائش گاہ سے غائب ہونے کے پانچ سال بعد مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔

ایک شخص کو انہی دنوں لاپتہ ہونے والی جواں سال لڑکی کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا جس نے ایک نوجوان خاتون کے قتل کا اعتراف بھی کیا تھا۔

تاہم چوری کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس ایک 55 سالہ کرائے دار خاتون تک پہنچیں جن کا شناختی کارڈ بھی نہیں تھا۔

خاتون نے پولیس افسران کو بتایا کہ وہ ایک جھوٹی شناخت کے ساتھ رہتی آئی ہیں اور انھوں نے پولیس کو اپنا اصلی نام بتایا۔

جرمنی کے شمالی شہر برون شوائیگ جہاں 1984 میں پاسٹیکا کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے غائب ہو گئی تھیں کی پولیس ترجمان نے کہا کہ پاسٹیکا کی خواہش تھی کہ وہ اب بھی لاپتہ رہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے اپنی گمشدگی اور واپس نہ آنے کے پسِ منظر سے متعلق بہت کم تفصیلات پولیس کو بتائی ہیں۔ پاسٹیکا نے کہا کہ وہ تیاری کے ساتھ گئی تھیں اور وہ ایسا خود چاہتی تھیں۔‘

پولیس ترجمان نے بتایا کہ پاسٹیکا نے اپنی نئی زندگی کے آغاز کے لیے بینک سے 4000 ڈوئچ مارک نکلوائے اور اپنے پالتو جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے ایک طالب علم پڑوسی کو اپنے اپارٹمنٹ کی چابیاں دیں۔

انھوں نے بتایا کہ قانونی طور پر مردہ قرار دی گئی خاتون کی ضعیف ماں اور بھائی اُن کے زندہ ہونے کی خبر سن کر’بالکل حیران‘ رہ گئے۔

جرمنی کے میڈیا کے مطابق پاسٹیکا کا خاندان ان سے رابطہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ملنے کی خواہش نہیں رکھتیں۔